وزارتِ اطلاعات میں کیا ہو رہا ہے؟ تحریر: تزئین اختر پاکستان میں وزارتِ اطلاعات، خواہ وفاقی سطح پر ہو یا صوبائی، طویل عرصے سے بدعنوانی، اقربا پروری، اشتہارات کی غیرمنصفانہ تقسیم اور پسندیدہ افراد کو نوازنے کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔ حکومت کی تشہیر کے لیے مختص سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

وزارتِ اطلاعات میں کیا ہو رہا ہے؟

تحریر: تزئین اختر

پاکستان میں وزارتِ اطلاعات، خواہ وفاقی سطح پر ہو یا صوبائی، طویل عرصے سے بدعنوانی، اقربا پروری، اشتہارات کی غیرمنصفانہ تقسیم اور پسندیدہ افراد کو نوازنے کے الزامات کی زد میں رہی ہے۔ حکومت کی تشہیر کے لیے مختص سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

وزارتِ اطلاعات کے ماتحت ادارہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) بھی اکثر بدانتظامی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث خبروں میں رہتا ہے۔ مالی معاملات، تقرریوں اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق کئی سوالات گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ بحث ہیں۔

یہی معاملات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں بھی سامنے آئے، جہاں وفاقی وزیرِ اطلاعات نے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر سحر کامران نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض منصوبے کمیٹی کے سامنے پیشگی بحث کے بغیر لائے گئے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے پائیدار بزنس پلان، مستقل منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ چیئرمین کی عدم تعیناتی، نیز بعض تقرریوں کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔

اجلاس میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات اشفاق خلیل اور پیمرا کی چیئرپرسن عنبرین جان بھی موجود تھیں۔ سحر کامران نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔

دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) سے متعلق بھی انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے۔ کالم نگار کے مطابق بعض تبادلوں اور تقرریوں میں شفافیت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، جبکہ ادارے کی مجموعی کارکردگی اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔

یہ تمام نکات ایسے ہیں جن پر شفاف اور غیرجانبدارانہ انداز میں وضاحت کی جانی چاہیے تاکہ وزارتِ اطلاعات اور اس کے ماتحت اداروں پر عوامی اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ اگر واقعی انتظامی بے ضابطگیاں یا کمزوریاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح ضروری ہے، اور اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو حکومت کو بھی حقائق سامنے لا کر ان کی تردید کرنی چاہیے۔

وزارتِ اطلاعات کی کارکردگی اور اس کے ماتحت اداروں میں گورننس سے متعلق اٹھنے والے سوالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ وزیراعظم کی سطح پر ان کا جائزہ لیا جائے تاکہ شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں