جسٹس مسرت ہلالی کا عدالتی سفر: دو فیصلے، کئی سوالات
جسٹس مسرت ہلالی سپریم کورٹ سے ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ان کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی ریفرنس میں اٹارنی جنرل ذاتی طور پر شریک نہ ہو سکے، تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے ان کا پیغام پہنچایا گیا۔ پیغام میں جسٹس مسرت ہلالی کے ایک اہم فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے 9 اور 10 مئی کے مقدمات میں ملٹری کورٹس کی بحالی کی اجازت دی، تاہم حکومت کو پابند کیا کہ ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے افراد کو 45 دن کے اندر ہائی کورٹ میں آزادانہ اپیل کا حق دیا جائے۔
بظاہر یہ جسٹس مسرت ہلالی کے عدالتی کردار کا ایک مثبت پہلو ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کہاں ہے؟
عدالت نے 45 دن کی مدت مقرر کی تھی۔ حکومت نے اس دوران آئینی ترامیم سمیت متعدد قانونی اقدامات کیے، لیکن ملٹری کورٹس سے متاثرہ افراد کو ہائی کورٹ میں اپیل کا وہ حق، جسے عدالت نے فیصلے کا لازمی حصہ قرار دیا تھا، آج تک نہیں دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی اس عدالتی حکم پر عمل نہ ہونا محض ایک انتظامی تاخیر نہیں بلکہ عدالتی احکامات کی حیثیت اور ریاستی اداروں کی جواب دہی پر ایک بڑا سوال ہے۔
اسی لیے اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے اس فیصلے کو جسٹس مسرت ہلالی کے عدالتی کارنامے کے طور پر پیش کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر فیصلے کے ایک حصے کو فخر کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے تو پھر اسی فیصلے میں حکومت پر عائد کی گئی ذمہ داری اور اس پر عدم عمل درآمد کا ذکر بھی ہونا چاہیے تھا۔
صحافی ثاقب بشیر نے بھی اسی تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق الوداعی ریفرنس میں اٹارنی جنرل آفس نے 45 دن میں قانون سازی کے عدالتی حکم کا ذکر تو کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس مدت کے گزرنے کے باوجود حکومت نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔
دوسری طرف صحافی وسیم ملک کے مطابق فل کورٹ ریفرنس کے بعد چند صحافیوں سے مختصر ملاقات میں جب جسٹس مسرت ہلالی سے پوچھا گیا کہ ان کے عدالتی کیریئر کے کون سے فیصلے انہیں ہمیشہ یاد رہیں گے تو انہوں نے صرف دو فیصلوں کا ذکر کیا۔ ایک وہ فیصلہ جس میں تنسیخِ نکاح کو خلع میں تبدیل کرنے کے خلاف رائے دی گئی، اور دوسرا وہ فیصلہ جس میں 16 سال سے قید ایک شخص کو بے گناہ قرار دے کر بری کیا گیا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ شخص کو ہرجانے کی ہدایت دی گئی۔
یہ جواب اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، مگر اس نے ایک بڑا سوال بھی پیدا کر دیا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے تقریباً 14 برس عدالتی منصب پر گزارے، جن میں تقریباً 11 برس پشاور ہائی کورٹ اور تقریباً 3 برس سپریم کورٹ شامل ہیں۔ ایسے طویل عدالتی سفر میں وہ فیصلے بھی ان کے نام سے وابستہ رہے جن کے سیاسی، آئینی اور انتخابی اثرات انتہائی دور رس تھے۔ بیٹ کے انتخابی نشان، مخصوص نشستوں اور ملٹری کورٹس جیسے مقدمات نے نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ پورے ملک کے آئینی اور سیاسی منظرنامے کو متاثر کیا۔
یہاں یہ سوال اٹھانا بجا ہے کہ کیا ایک جج کے عدالتی سفر کا حقیقی احتساب صرف ان فیصلوں سے ہونا چاہیے جنہیں وہ خود یادگار سمجھتے ہیں، یا ان فیصلوں کو بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے جنہوں نے ملکی سیاست، انتخابات اور آئینی معاملات پر گہرے اثرات مرتب کیے؟
سوشل میڈیا پر جسٹس مسرت ہلالی کے بارے میں شدید تنقید بھی سامنے آتی رہی۔ ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر عدلیہ اور ریاستی اداروں کے بارے میں ہونے والی تنقید پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا۔ لیکن جمہوری معاشرے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایک جج کے فیصلے عوامی اور سیاسی زندگی پر اثرانداز ہوں تو ان فیصلوں پر تنقید کا حق بھی عوام اور میڈیا کو حاصل ہے۔
عدلیہ کا وقار صرف تنقید سے تحفظ کا نام نہیں۔ عدلیہ کا اصل وقار آئین، قانون، شفافیت، غیر جانب داری اور اپنے فیصلوں کے عملی احترام سے قائم ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں امیر عباس سمیت بعض صحافیوں نے جسٹس مسرت ہلالی کے عدالتی کردار پر انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور انہیں ایسے عدالتی فیصلوں کا حصہ قرار دیا ہے جن کے بارے میں ان کے نزدیک جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا۔
یہ تنقید اپنی شدت کے باعث الگ بحث کا موضوع ہو سکتی ہے، لیکن اس سے ایک بنیادی سوال ضرور سامنے آتا ہے:
کیا جج صاحبان اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جاتے ہیں یا ان کے فیصلے بھی ان کے ساتھ ریٹائر ہو جاتے ہیں؟
جج ریٹائر ہو جاتا ہے، مگر اس کے فیصلے نہیں ہوتے۔ وہ فیصلے آئینی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان پر آنے والی نسلیں بحث کرتی ہیں، قانون کے طلبہ انہیں پڑھتے ہیں، وکلا انہیں حوالہ بناتے ہیں اور تاریخ ان کا حتمی احتساب کرتی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔
ان کے اچھے فیصلوں کا اعتراف بھی ہونا چاہیے، متنازع فیصلوں پر سوال بھی اٹھنے چاہئیں اور جہاں عدالتی حکم پر ریاستی اداروں نے عمل نہیں کیا وہاں حکومت سے جواب بھی طلب کیا جانا چاہیے۔
کیونکہ عدلیہ کا اصل امتحان ریفرنس کی تقریروں میں نہیں، بلکہ ان فیصلوں میں ہوتا ہے جو اقتدار، سیاست اور ریاستی طاقت کے سامنے قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہیں۔
اور شاید جسٹس مسرت ہلالی کے عدالتی ورثے پر سب سے سنجیدہ بحث ابھی شروع ہوئی ہے۔