پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر عمر عتیق نے 200 کینسر مریضوں کا 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر طبی قرض معاف کر دیا

پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر عمر عتیق نے 200 کینسر مریضوں کا 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر طبی قرض معاف کر دیا

امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد آنکولوجسٹ ڈاکٹر عمر عتیق نے انسان دوستی کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے اپنے تقریباً 200 سابق کینسر مریضوں کے مجموعی طور پر 6 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر کے بقایا طبی اخراجات معاف کر دیے۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عمر عتیق نے تقریباً 29 برس تک خدمات انجام دینے کے بعد امریکی ریاست آرکنساس کے شہر پائن بلف میں واقع اپنا کینسر کلینک بند کیا۔ کلینک بند کرنے سے قبل انہوں نے زیر التوا بلوں کا جائزہ لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ مریضوں سے بقایا رقم وصول کرنے کے بجائے ان کا قرض معاف کر دیا جائے۔

ڈاکٹر عمر عتیق نے اپنے سابق مریضوں کو ہالیڈے کارڈز کے ذریعے آگاہ کیا کہ ان کے تمام بقایا واجبات ختم کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کووڈ-19 وبا کے بعد بہت سے مریض مالی مشکلات کا شکار تھے، اس لیے ان کے خاندان نے محسوس کیا کہ مریضوں کو اس رقم سے زیادہ ضرورت ہے۔

ڈاکٹر عمر عتیق کے اس اقدام کو امریکا میں طب کے شعبے میں انسان دوستی اور ہمدردی کی ایک قابلِ تحسین مثال قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں