بریکنگ نیوز
یورپی یونین کی GSP+ مانیٹرنگ رپورٹ میں پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار
برسلز: یورپی کمیشن اور یورپی یونین کے ہائی ریپریزنٹیٹو برائے خارجہ امور و سکیورٹی پالیسی نے پاکستان سے متعلق GSP+ جائزہ رپورٹ (2023-2025) جاری کر دی ہے، جس میں انسانی حقوق، آزادیٔ اظہار، میڈیا کی آزادی اور جبری گمشدگیوں سے متعلق متعدد سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز لاپتہ افراد کے بارے میں مؤثر پیش رفت یا ذمہ داران کے احتساب کو یقینی بنانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق اب تک جبری گمشدگیوں کے کسی بھی کیس میں کوئی باقاعدہ قانونی کارروائی یا سزا نہیں ہوئی، جبکہ کمیشن نے 9 ہزار سے زائد کیسز نمٹا دیے، تاہم کسی بھی کیس میں ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہ آنے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کسی کیس کو متاثرہ شخص کے “گھر واپس آنے” یا وفات کی بنیاد پر بند کیا جاتا ہے تو اس دوران اس شخص کے ساتھ پیش آنے والے حالات کا کوئی ریکارڈ محفوظ نہیں کیا جاتا۔
یورپی یونین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بعض متاثرہ خاندانوں کو محدود پیمانے پر معاوضہ دیا، تاہم اس کے لیے واضح قانونی یا طریقہ کار کا فریم ورک موجود نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام نے آگاہ کیا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف الگ قانون سازی کا ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے مطابق موجودہ قوانین پہلے ہی ایسے اقدامات کو جرم قرار دیتے ہیں۔
رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے قوانین میں حالیہ ترامیم، آزادیٔ اظہار، میڈیا کی آزادی، سیاسی حقوق اور عدالتی کارروائیوں سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
نوٹ: یہ تمام مشاہدات اور نکات یورپی یونین کی GSP+ مانیٹرنگ رپورٹ میں درج ہیں، جنہیں رپورٹ کے متن کے مطابق بیان کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کا مؤقف یا ردعمل سامنے آنے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔