شرجیل میمن کا مولانا فضل الرحمان سے بیان واپس لینے کا مطالبہ، پاک فوج کے خلاف بیان کی مذمت

کراچی: صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی پریس کانفرنس

کراچی: صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے مولانا فضل الرحمان کے پاک فوج سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء اور غازیوں کے خلاف بیان کی مذمت کرتے ہیں، پاک افواج نے ہر محاذ پر پاکستان کا دفاع کیا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاک آرمی، نیوی اور فضائیہ نے دشمن کو عبرتناک شکست دی، ہمارے جوان وطن کی حفاظت کے جذبے کے تحت فوج میں خدمات انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مودبانہ اپیل کی کہ وہ اپنا بیان واپس لیں، مولانا تجربہ کار سیاستدان ہیں، بیان واپس لینے سے ان کے قد و قامت میں اضافہ ہوگا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارے شہداء، غازی اور ہیروز ہیں، بیان بازی سے شہید کے رتبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، تاہم مولانا فضل الرحمان کے بیان کو بھارتی میڈیا نے اچھالا اور بھارت میں اس بیان کو شہ سرخیاں ملیں۔

شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آمروں کے خلاف جدوجہد کی، لیکن کبھی اپنی افواج کے خلاف بات نہیں کی۔ پاک بھارت جنگ میں پوری قوم متحد تھی، ہر فرد نے اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم جو بھی فیصلے کریں گے، ملکی معیشت کو مدنظر رکھ کر کریں گے۔ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھتا، جس کی بڑی وجہ ذوالفقار علی بھٹو کا دیا ہوا ایٹمی طاقت والا پاکستان ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے، کسی کو حدود عبور نہیں کرنی چاہئیں، سیاسی، عسکری، تاجر اور تمام مکاتب فکر کا ملک کے لیے نقطہ نظر ایک ہونا چاہیے۔

پریا کماری کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے حکومتی موقف سامنے آ چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے دھرنے سے متعلق شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وہ پہلے وفاقی وزارت سے مستعفی ہوں، نشست چھوڑیں اور ضمنی انتخابات کروائیں، پھر پتہ چل جائے گا۔

گندم کے معاملے پر صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے اپنی اپنی پالیسی بنائی ہے، انہیں نہیں لگتا کہ پنجاب سے افغانستان گندم گئی ہے، تاہم سندھ سے گندم پنجاب جانے کے شواہد موجود ہیں۔ آئین کے مطابق کوئی صوبہ دوسرے صوبے کو جانے والی گندم نہیں روک سکتا۔

سندھ میں پانی کی قلت کے حوالے سے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو متعدد خطوط لکھے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کی بنیاد ہے، پنجاب میں بین الاضلاعی موٹرویز بن رہی ہیں، لیکن وفاق کی جانب سے سندھ میں کوئی ایسا موٹروے منصوبہ نہیں بنایا جا رہا، یہ ملک، ملکی معیشت اور سندھ کے ساتھ زیادتی ہے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ناصر شاہ دبئی میں تھے جہاں ان کی طبیعت خراب ہوئی، سندھ میں آج بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں