پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومتی حامی صحافیوں اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بھی تنقید

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومتی حامی صحافیوں اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بھی تنقید

اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد حکومت کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ بعض حکومتی حامی صحافیوں، تجزیہ کاروں اور مسلم لیگ (ن) سے وابستہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔

صحرانورد نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ماہ سے زائد عرصے تک کم ترین سطح پر رہیں، مگر حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ نہیں پہنچایا، جبکہ اب قیمتوں میں فوری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ “اس بڑھوتری کا دفاع ہم سے نہیں ہو پائے گا۔”

کالم نگار خالد حسین تاج نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ ان کے مطابق حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنا جمہوری رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

اینکر اور معاشی رپورٹر شہباز رانا نے پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر 18 فیصد جی ایس ٹی کے مساوی شرح لاگو ہوتی تو آج پٹرول تقریباً 270 روپے اور ڈیزل 293 روپے فی لیٹر ہو سکتا تھا۔ انہوں نے حکومت سے بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے اور اس معاملے کا آئینی جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

سید ساجد مصطفیٰ نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مبینہ 72 ارب روپے منافع کی تحقیقات کے لیے قائم وزیراعظم کی کمیٹی کی رپورٹ منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا اور سوال اٹھایا کہ عوام کو اب تک اس معاملے کی حقیقت سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب راجہ عامر شہزاد نے بھی حکومت کی پٹرولیم پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرول مہنگا کیا گیا، جس سے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا گیا۔

حکومت کی جانب سے ان تنقیدی آراء پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں