11 ارب روپے کے مبینہ پٹرولیم سرمایہ کاری سکینڈل میں ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد کا نام سامنے آگیا، متاثرین کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

11 ارب روپے کے مبینہ پٹرولیم سرمایہ کاری سکینڈل میں ڈائریکٹر ایکسائز اسلام آباد کا نام سامنے آگیا، متاثرین کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد/بنوں: مبینہ 11 ارب روپے کے پٹرولیم سرمایہ کاری سکینڈل نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بنوں پولیس کے ہاتھوں گرفتار مرکزی ملزم عادل اکرام نے دورانِ سماعت عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اسلام آباد بلال اعظم کا نام بھی اس کیس میں لیا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے عادل اکرام کے مبینہ پٹرولیم کاروبار میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، جن میں صرف ضلع بنوں کے تقریباً 60 افراد کی جانب سے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ سرمایہ کاروں کے مطابق بعد ازاں عادل اکرام نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کے پاس کوئی حقیقی پٹرولیم کاروبار موجود نہیں تھا اور پہلے سرمایہ کاروں کو منافع نئی سرمایہ کاری سے ادا کیا جاتا رہا۔

متاثرین کی درخواستوں پر عادل اکرام کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ، تھانہ کوہسار، ہری پور اور بعد ازاں ضلع بنوں میں مقدمات درج کیے گئے، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے سنٹرل جیل بنوں منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنوں کی عدالت میں عادل اکرام کے بیان کے بعد عدالت نے بلال اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے۔

متاثرین کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود بلال اعظم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 109 اور 34 کے بجائے صرف دفعات 406 اور 489-F کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس پر انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس اقدام سے نامزد ملزم کو قانونی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متاثرہ سرمایہ کاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مقدمے کی تفتیش پر اس وجہ سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ایس پی انویسٹی گیشن بنوں ساجد ممتاز اور نامزد ملزم بلال اعظم کا تعلق ایک ہی ضلع سے بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام یا سرکاری اداروں کی جانب سے ان الزامات کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

متاثرہ سرمایہ کاروں نے اعلیٰ عدلیہ، حکومت خیبرپختونخوا، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ سکینڈل کی غیرجانبدار، شفاف اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائی جائیں، عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اگر تحقیقات میں کسی سرکاری اہلکار کا کردار ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

واضح رہے کہ اس خبر میں شامل الزامات متعلقہ فریقین اور متاثرین کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ نامزد سرکاری افسر کا مؤقف بھی تاحال سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں