🌏 *این سی سی آئی اے نے پوڈکاسٹر ریحان طارق کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا*
لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے پوڈکاسٹر ریحان طارق کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر فرقہ وارانہ منافرت، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیز مواد نشر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ریحان طارق نے اپنے فیس بک پلیٹ فارم “Rehan Tariq Official” پر ایک مذہبی اسکالر کا انٹرویو نشر کیا، جس میں حساس مذہبی اور فرقہ وارانہ معاملات پر گفتگو کی گئی۔ تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ انٹرویو کے دوران کیے گئے سوالات اور نشر کیے گئے دیگر مواد سے ایک مخصوص مذہبی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت، اشتعال اور تشدد کی حوصلہ افزائی کا تاثر ملا، جس سے امنِ عامہ متاثر ہونے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
دستاویزات کے مطابق ابتدائی انکوائری کے بعد این سی سی آئی اے نے مقدمہ نمبر 138/2026 درج کیا۔ مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر نجم اشرف باجوہ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
ملزم کے خلاف عائد دفعات
سیکشن 11، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 (ترمیم 2025)
دفعہ 153-A تعزیراتِ پاکستان (PPC) – مختلف طبقات یا فرقوں کے درمیان دشمنی، نفرت یا اشتعال انگیزی پھیلانا۔
دفعہ 295-A تعزیراتِ پاکستان – جان بوجھ کر کسی طبقے کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی نیت سے توہین آمیز یا اشتعال انگیز فعل۔
دفعہ 298 تعزیراتِ پاکستان – مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے یا مذہبی حوالے سے قابلِ اعتراض الفاظ یا طرزِ عمل اختیار کرنے سے متعلق دفعات۔
ممکنہ سزا کیا ہو سکتی ہے؟
اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جائیں تو:
PECA سیکشن 11 کے تحت قید اور جرمانہ، جن کی مدت اور مقدار قانون کے اطلاق اور ترمیم کے مطابق عدالت طے کرے گی۔
دفعہ 153-A PPC کے تحت پانچ سال تک قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔
دفعہ 295-A PPC کے تحت دس سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
دفعہ 298 PPC کے تحت جرم کی نوعیت کے مطابق ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔
یہ تمام الزامات اس مرحلے پر صرف ایف آئی آر اور تفتیشی مؤقف کا حصہ ہیں۔ ملزم کو قانون کے مطابق صفائی پیش کرنے اور منصفانہ ٹرائل کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔