تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی رہائش گاہ پر کسٹمز کے مبینہ چھاپے اور گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ سے متعلق تمام خبریں سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی ہیں،

تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی رہائش گاہ پر کسٹمز کے مبینہ چھاپے اور گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تمام خبریں سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی ہیں، کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کی آفیشل دستاویزات نے اس گمراہ کن مہم کا پردہ چاک کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ چوہدری شفقت محمود کی رہائش گاہ پر سرے سے کوئی کاروائی کی ہی نہیں گئی اور نہ ہی اس معاملے کا ان کی ذات یا گھر سے دور دور تک کوئی تذکرہ ہے،ان کی ساکھ کو دانستہ طور پر متاثر کرنے کے لیے ایک من گھڑت اور شرانگیز افواہ پھیلائی گئی، جبکہ کسٹمز کی اصل دستاویزات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کا نشانہ کوئی معزز افسر نہیں ،کسٹمز کی آفیشل ڈٹینشن رسید نمبر 2340، 2341 اور 2342 کے ناقابل تردید دستاویزی حقائق بتاتے ہیں کہ کسٹمز الیون نے حاجی یعقوب کالونی، پشین کے رہائشی سید عبد القدوس کی تحویل سے پہلی گاڑی یعنی سفید رنگ کی ٹویوٹا لینڈ کروزر ماڈل 2018 (چیسس نمبر URJ202-4095197) برآمد کی، جبکہ اسی پتے پر رہائش پذیر اس کے بیٹے دوسرے ملزم سید محمد اکرم ولد سید عبد القدوس کی تحویل سے مزید دو گاڑیاں ضبط کی گئیں جن میں ایک ٹویوٹا گاڑی ماڈل 2011 (چیسس نمبر GS15-0113477) اور ایک قیمتی رینگلر جیپ (چیسس نمبر 1C4HJWLC4CL161101) شامل ہے، دوران تلاشی یہ رہائشی افراد ان گاڑیوں کی قانونی امپورٹ، کسٹمز کلیئرنس یا ملکیت کے کوئی بھی مستند کاغذات پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے جس پر کسٹمز ایکٹ 1969ء کے تحت کارروائی کرتے ہوئے گاڑیاں تحویل میں لے کر مالکان کو تین دن کی مہلت کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، کسٹمز کی ان آفیشل رسیدوں نے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ قانون کی یہ روٹین کارروائی صرف پشین کے رہائشیوں اور ان کے غیر قانونی اثاثوں کے خلاف تھی، جس میں تحصیلدار چوہدری شفقت محمود کا نام بلاوجہ اور شرپسندی کی غرض سے گھسیٹا گیا، ان ٹھوس شواہد کے سامنے آنے کے بعد حقائق کے برعکس پھیلائی جانے والی خود ساختہ مہم کا غبارہ پھٹ چکا ہے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں