راولپنڈی پولیس میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل، متعدد افسران معطل و کلوز لائن
راولپنڈی: راولپنڈی پولیس میں نئے سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی تعیناتی کے بعد بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق متعدد ایس ایچ اوز، چوکی انچارجز اور دیگر افسران کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ مزید تبادلوں اور کلوز لائن کیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تھانہ دھمیال کے ایس ایچ او سب انسپکٹر انوار الحق کو مبینہ کرپشن کے الزامات پر معطل کر کے ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چکری روڈ پر برگر کھانے جانے والے دو نوجوانوں کو حراست میں لے کر ان سے مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت وصول کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اسی واقعے میں ملوث تھانہ دھمیال کے تین اہلکاروں کو بھی گرفتار کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب، اڈیالہ چوکی کے انچارج مہر گل خان کو بھی مبینہ طور پر افغان دہشت گرد ولی جان سے روابط کے الزام میں کلوز ٹو پولیس لائن کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس الزام کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کی ٹیم میں شامل افسران کو مرحلہ وار تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو ایس پیز، دو ایس ڈی پی اوز اور تقریباً دس ایس ایچ اوز کی تبدیلی یا کلوز لائن کیے جانے کا عمل جاری ہے۔
کچھ حلقوں کی جانب سے ان تبادلوں کو ولی جان سے متعلق معاملے سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم باخبر ذرائع کے مطابق یہ تاثر درست نہیں اور انتظامی فیصلے نئے سی پی او کی جانب سے اپنی حکمت عملی کے تحت نئی ٹیم تشکیل دینے کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں مزید نو ایس ایچ اوز کو بھی کلوز لائن کیے جانے کا امکان ہے، تاہم ان تمام تبادلوں اور کارروائیوں کے حوالے سے راولپنڈی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلامیہ یا مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔