مسائل کا مستقل حل صرف مذاکرات، مکالمے اور آئینی طریقۂ کار میں موجود ہے، پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا،ان کے مطابق جب بھی پاکستان کے مفاد کی بات آئے گی تو کشمیریوں کی تمام تر وفاداری پاکستان کے ساتھ ہوگی،ان خیالات کا اظہار پاکستان میں کشمیری مہاجرین کی بارہ نشستوں کے مسلم لیگ (ن )کی جانب سے نگران ، سابق وفاقی وزیر،مرکزی رہنما مسلم لیگ (ن) خواجہ سعد رفیق نے رکن قومی اسمبلی، ممبرسپریم جوڈیشل کمیشن شیخ آفتاب احمد کی رہائش گاہ پر امید واران مسلم لیگ (ن) حلقہ ایل اے 39 جموں 6 راجہ محمد صدیق اور امیدوار حلقہ ایل اے44 ویلی 5 احمد رضا قادری کی انتخابی مہم کی کامیابی کے سلسلہ میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،اجلاس سے رکن قومی اسمبلی، ممبرسپریم جوڈیشل کمیشن شیخ آفتاب احمد،رکن قومی اسمبلی ملک ابرار احمد ، امید واران مسلم لیگ (ن) حلقہ ایل اے 39 جموں 6 راجہ محمد صدیق اور امیدوار حلقہ ایل اے44 ویلی 5 احمد رضا قادری،ضلعی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر میاں مشتاق احمد،ضلعی سنئیر نائب صدر حاجی محمد یعقوب خان نے خطاب کیا ، اس موقع پراراکین قومی اسمبلی ملک سہیل خان کمڑیال طاہرہ اورنگزیب،سابق وفاقی وزیرانوشہ رحمان،اراکین پنجاب اسمبلی توصیف شاہ، ملک اعتبار خان،سابق وزیر کھیل پنجاب جہانگیر خانزادہ، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) محمدسلیم شہزاد،سابق امیدواران پنجاب اسمبلی،چیئرمین ہیلتھ کمیٹی ملک حمید اکبرخان ، شیخ سلمان سرور،سابق چیئرمین بلدیہ اٹک ناصر محمود شیخ، حاجی محمد اکرم خان ،شیخ اجمل محمود، طلال اشرف بٹ ،شیخ ظہور الہی ، میاں شاہ نواز شانی، میر نوید اختر ، ملک انصار احمد ، کاظم نقوی ، ملک عابد شہزاد ، سابق چئیرمین حاجی رفاقت خان ، ملک مرید عباس،اشتیاق احمد،محبوب خان ، پی اے ٹو شیخ آفتاب احمد،شہزاد رضا ، شیخ حامد قدوس ، ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) خواتین ونگ بیگم خالدہ مسرت رانا، سٹی سیکرٹری مہتاب بخاری، سیکرٹری جنرل راشدہ صدیق، جوائنٹ سیکرٹری فریحہ طارق، پارٹی عہدیداران اور کشمیر برادری کے معززین بھی کثیر تعداد میں موجود تھے ، خواجہ سعد رفیق نےپاکستان، کشمیر اور قومی یکجہتی پر دوٹوک موقف پیش کرتے ہوئے ، سیاسی مفاہمت اور مذاکرات پر زور دیا،اختلافات کا حل تشدد، تصادم یا نفرت نہیں بلکہ برداشت، مذاکرات اور باہمی احترام میں ہے،جہاں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا عوامی حقوق کی پامالی ہو، وہاں آئین اور قانون کے مطابق اصلاح اور احتساب ہونا چاہیے،سعد رفیق نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ کشمیر سے کراچی تک پورے پاکستان میں قومی اتحاد، سیاسی استحکام، ترقی، جمہوری اقدار اور پاکستان کی مضبوطی کی ایک ہی آواز بلند ہو، کیونکہ یہی راستہ پاکستان اور کشمیری عوام کے روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے انہوں نے سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب قائد محمد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اٹک جیل اور قلعہ اٹک میں ملاقاتوں کے لیے آنا پڑتا تھا تو اس وقت شیخ آفتاب احمد نے جس خلوص، محبت اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، آج بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ پاکستان نے کشمیریوں کے ساتھ زیادتی کی ہے، لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں، وہ نظریہ پاکستان پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی غیر متزلزل ہے، وہ خود ایک مہاجر کشمیری ہیں اور ان کا پختہ یقین ہے کہ شاید ہی دنیا میں کوئی قوم کشمیریوں سے بڑھ کر پاکستان سے محبت کرتی ہو،مقبوضہ کشمیر میں لوگ پاکستان سے محبت کی پاداش میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی ہے، افواج پاکستان نے کشمیر کے مقصد کے لیے کئی جنگیں لڑیں،ہزاروں جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا،جبکہ ملک بھر کے عوام نے بھی کشمیر کے لیے بے شمار قربانیاں دیں،پاکستان کی قربانیوں، محبت اور وابستگی کو کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے سے ختم نہیں کیا جا سکتا، وہ ہمیشہ سیاسی مفاہمت، برداشت اور مکالمے کے حامی رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات نفرت میں تبدیل نہ ہوں،ان کے خاندان کی تقریباً 80 سالہ سیاسی خدمات اور ان کی اپنی نصف صدی پر محیط سیاسی جدوجہد اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ قومی اتحاد کو ترجیح دی ہے،آزاد کشمیر کو وفاق کی جانب سے ملنے والی گرانٹ کوئی احسان نہیں بلکہ پاکستان کی آئینی اور قومی ذمہ داری ہے،جبکہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کو اپنا سمجھا،انہیں عزت،روزگا، کاروبار اور سیاسی نمائندگی کے یکساں مواقع فراہم کیے،پاکستان میں غربت، بے روزگاری اور معاشی مشکلات صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورا ملک ان چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے،اس لیے ان مسائل کو صرف آزاد کشمیر کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا،انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت مہاجرین جموں و کشمیر کے آئینی، جمہوری اور سیاسی حقوق سلب نہیں ہونے دیئے جائیں گے، اگر انتخابی نظام میں خامیاں موجود ہیں تو انہیں انتخابی اصلاحات کے ذریعے دور کیا جائے، نہ کہ پورے نظام کو ختم کر دیا جائے،انہوں نے احتجاج کو ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج ایسا ہونا چاہیے جس سے عوام کی زندگی، کاروبار اور معمولات متاثر نہ ہوں،مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں تشویشناک ہیں اور پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا،اختلاف رائے رکھنے والوں کی بات بھی سنی جانی چاہیے، لیکن ایسے بیانیوں سے اجتناب ضروری ہے جو غیر ارادی طور پر کشمیر کے بنیادی مؤقف کو نقصان پہنچا سکتے ہوں،انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ملک کا دفاع کیا اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا،انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر، خصوصاً میرپور میں ہوائی اڈے سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے تو ان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، تاہم ایسے منصوبوں کے لیے تکنیکی، مالی اور انتظامی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن سے جڑا ہوا ہے اور اس کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ خطے میں مستقل امن قائم ہو سکے، پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے اور اپنی دفاعی صلاحیت صرف قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے برقرار رکھتا ہے، ان کی پہلی شناخت مسلمان، دوسری پاکستانی، جبکہ کشمیری اور پنجابی شناخت بھی ان کے لیے باعث فخر ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کی شناخت پر سوال اٹھائے ۔