بلوچستان میں تین روز کے دوران 54 دہشت گرد ہلاک، بھارت کی پشت پناہی کے شواہد موجود ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ زیارت میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن اور پائپ لائن کی حفاظت پر مامور پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 9 پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا، تاہم جب سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کا گھیرا تنگ کیا تو دہشت گردوں نے تمام مغوی اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دالبندین میں 8 جبکہ خاران میں 6 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ ان کارروائیوں سمیت گزشتہ تین روز کے دوران بلوچستان بھر میں مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر 54 دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور تربیت افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “کوئی مائی کا لعل ریاستِ پاکستان کو ڈرا یا دھمکا نہیں سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کی عزت، وقار اور فخر کی علامت ہے، اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔