زیارت میں دہشت گردوں کا حملہ، 9 پولیس اہلکار شہید، کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک

زیارت میں دہشت گردوں کا حملہ، 9 پولیس اہلکار شہید، کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک

زیارت: بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ متعدد اہلکاروں کے اغوا کی اطلاعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کرتے ہوئے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار مانگی ڈیم فیز تھری کے تعمیراتی منصوبے پر سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ شہید ہونے والوں میں دو تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں، جبکہ حملے کے بعد بعض اہلکار لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

واقعے کے خلاف گزشتہ شب سے ضلع پشین میں خانوزئی کراس کے مقام پر نیشنل ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کی بڑی تعداد نے علاقے میں داخل ہو کر 20 سے زائد پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے میڈیا شاہد رند نے بتایا کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار پہاڑی راستوں سے بحفاظت تھانہ کچ پہنچ گئے ہیں، جبکہ رضوان نامی ایک کانسٹیبل کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق علاقے میں جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جبکہ مزید سرچ آپریشن جاری ہے۔

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے اپنے بیانات میں حملہ آوروں کو “فتنہ الخوارج” سے منسلک قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں