پشاور: فرنٹ لائن ڈاکٹرز انتظار میں، فنانس ڈائریکٹر نے مزید مراعات مانگ لیں

پشاور: فرنٹ لائن ڈاکٹرز انتظار میں، فنانس ڈائریکٹر نے مزید مراعات مانگ لیں

پشاور میں صحت کے شعبے کی ترجیحات ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہیں۔ ایک جانب فرنٹ لائن ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی ڈاکٹرز اپنے اسٹائپنڈ میں معمولی اضافے کے منتظر ہیں، جبکہ دوسری جانب حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) کے فنانس ڈائریکٹر کی جانب سے سرکاری گاڑی، ماہانہ 250 لیٹر پٹرول اور سالانہ انکریمنٹ کی فراہمی کے لیے باضابطہ درخواست سامنے آئی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی درخواست کے مطابق، فنانس ڈائریکٹر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی انتظامی ذمہ داریوں کے باعث سرکاری گاڑی اور فیول الاؤنس ضروری ہے، جبکہ دیگر ایم ٹی آئی اداروں کی روایت کے مطابق سالانہ انکریمنٹ بھی ملازمت کے معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا عہدہ ادارے کی اعلیٰ قیادت میں شامل ہے، اس لیے انہیں دیگر سینئر عہدیداروں کے مساوی سہولیات دی جائیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ آٹھ لاکھ روپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والے افسر کے لیے مزید مراعات کی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز اپنے جائز مالی حقوق اور اسٹائپنڈ میں اضافے کے منتظر ہیں۔

صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں نے صوبائی وزیر صحت خالق الرحمن اور چیئرمین بورڈ آف گورنرز حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے مطالبہ کیا ہے کہ وسائل کی تقسیم میں مساوات کو یقینی بنایا جائے اور فرنٹ لائن طبی عملے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

واضح رہے کہ زیرِ گردش دستاویز کی سرکاری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صحت کے شعبے میں ترجیحات اور انتظامی مراعات پر بحث چھڑ گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں