راولپنڈی میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سی پی او اور دیگر اعلیٰ افسران اچانک عہدوں سے ہٹا دیے گئے
راولپنڈی: حکومت پنجاب نے راولپنڈی میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر، سی پی او، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور اسسٹنٹ کمشنر صدر سمیت متعدد اہم افسران کو اچانک ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تبدیل کیے جانے والے افسران میں کمشنر راولپنڈی محمد عبدالعامر خٹک، ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ، سی پی او سید خالد محمود ہمدانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کیپٹن (ر) شہریار شیرازی اور اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی صدر حاکم خان شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک حساس اراضی تنازع اور سرکاری زمین پر مبینہ قبضے کے مقدمے کی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی۔ سامنے آنے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق تحقیقات میں سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت اور سرکاری اراضی پر غیرقانونی قبضے جیسے سنگین الزامات کا انکشاف ہوا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نشاط سینما اور ملحقہ قیمتی اراضی سے متعلق معاملے میں بعض سرکاری افسران اور اہلکاروں نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی کی، جعلی یا متنازعہ دستاویزات کی بنیاد پر ملکیتی اندراجات تبدیل کیے اور عدالتی احکامات کے باوجود غیرقانونی اقدامات کیے۔
رپورٹ میں متعدد ریونیو، ایکسائز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ انکوائری ٹیم نے ذمہ دار افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور مزید کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر اہم انتظامی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے، جبکہ انکوائری میں نامزد دیگر افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی اور محکمانہ کارروائی متوقع ہے۔
سرکاری سطح پر ان تبادلوں کی باضابطہ وجوہات جاری نہیں کی گئیں، تاہم باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے مبینہ بے ضابطگیوں اور انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔



