جیو نیوز معطلی: صحافیوں، تجزیہ کاروں اور مذہبی شخصیات کے بیانات کے بعد بحث مزید گہری ہوگئی

جیو نیوز معطلی: صحافیوں، تجزیہ کاروں اور مذہبی شخصیات کے بیانات کے بعد بحث مزید گہری ہوگئی

اسلام آباد: جیو نیوز پر نشر ہونے والی متنازع دستاویزی فلم اور اس کے نتیجے میں پیمرا کی جانب سے چینل کی نشریات معطل کیے جانے کے معاملے پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ صحافتی، مذہبی اور میڈیا حلقوں سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات نے اس معاملے پر اپنے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے جیو نیوز کی غلطی کو سنگین قرار دیتے ہوئے سخت احتساب کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر نے معطلی کے فیصلے کو ضرورت سے زیادہ سخت اقدام قرار دیتے ہوئے ادارے کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے کی بات کی ہے۔

سینئر صحافی نوید چوہدری نے ایکس پر اپنے تبصرے میں کہا کہ اس وقت پوری میڈیا انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق جیو نیوز کی بندش ایسے ہے جیسے سمندر میں طوفان کا شکار ٹائٹینک کے آدھے حصے کو الگ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ غلطی کیسے ہوئی، اس کا ازالہ کیسے کیا گیا اور اس کے پیچھے نیت کیا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ماحول میں میڈیا اداروں کو غیر معمولی احتیاط اور دانشمندی کی ضرورت ہے، تاہم خدشہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ بعض اوقات بہانہ ہو یا نہ ہو، سزا پہلے سے طے شدہ محسوس ہوتی ہے۔

سینئر اینکر سید طلعت حسین نے کہا کہ اگرچہ جیو نیوز کے خلاف ہونے والی کارروائی بظاہر سخت دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا۔ ان کے مطابق ادارے کی فوری معذرت اور پیمرا کے فیصلے سے تعاون نے تنازع کو مزید پھیلنے سے روک دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مناسب سبق سیکھنے کے بعد حالات بتدریج معمول پر آ جائیں گے۔

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے بیان میں کہا کہ جیو نیوز پر نشر ہونے والے خاکوں کا معاملہ پابندی کے بعد مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیو ایک بڑا اور ذمہ دار ادارہ ہے جسے خود احتسابی کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جیو نیوز پہلے ہی معذرت نشر کر چکا ہے، اس لیے چینل کو سنے بغیر بند کرنا نہ صرف مناسب نہیں بلکہ میڈیا کے لیے ایک اچھی روایت بھی نہیں۔

پیمرا کے سابق رکن میاں شمس نے اس موقع پر 2014 میں جیو انٹرٹینمنٹ کے مارننگ شو “اٹھو جاگو پاکستان” میں نشر ہونے والی وینا ملک کی فرضی شادی کے تنازع کی یاد دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد پیمرا نے معطلی، جرمانے اور دیگر تادیبی اقدامات کیے تھے۔ میاں شمس کے مطابق یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسی متنازع صورتحال بار بار جیو گروپ ہی کے ساتھ کیوں جڑتی نظر آتی ہے اور آیا یہ محض اتفاق ہے یا کسی طرزِ عمل کا حصہ۔

صحافی اسد علی طور نے کہا کہ جیو نیوز نے پیمرا کی سزا کو بغیر کسی اعتراض کے قبول کرتے ہوئے اپنا یوٹیوب چینل بھی بند کر دیا ہے۔ انہوں نے علما اور عوام سے اپیل کی کہ جیو نیوز کے مالکان، صحافیوں اور ملازمین کی معذرت کو قبول کیا جائے کیونکہ کسی بھی مسلمان کے بارے میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ جان بوجھ کر مذہبی جذبات مجروح کرنا چاہے گا۔ ان کے مطابق اس معاملے کو اشتعال انگیزی کے بجائے تحمل سے حل کیا جانا چاہیے کیونکہ اس ادارے سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

معروف مذہبی رہنما شاہ اویس نورانی نے تاہم سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جیو نیوز کی مذہبی تنازعات سے جڑی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی متعدد پروگراموں اور مواد پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں اور حالیہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی غلطیاں نہ صرف ادارے بلکہ اس کے کارکنوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

اردو نیوز کے صحافی وسیم عباسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جیو نیوز نے پیمرا سے مکمل تعاون کرتے ہوئے اپنا یوٹیوب چینل بھی رضاکارانہ طور پر بند کر دیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ان کے مطابق پندرہ روزہ معطلی نے شاید ادارے کو عوامی ردعمل کی شدت سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے کیونکہ اس نوعیت کے مذہبی معاملات پاکستان میں ماضی میں بھی حساس نتائج پیدا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑے صحافتی ادارے کا فعال رہنا ضروری ہے تاہم ذمہ دار افراد کا احتساب بھی ہونا چاہیے۔

سینئر اینکر اور وی لاگر رضوان رضی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب اداروں کے اندر موجود افراد پیشہ ورانہ اصولوں کے بجائے مسلکی تعصبات کو ترجیح دینے لگیں تو ایسے نتائج سامنے آتے ہیں جیسے آج جیو نیوز کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری نے پیمرا کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریگولیٹر کے لیے ضروری ہے کہ وہ کارروائی سے قبل متعلقہ فریق کو سنے۔ ان کے مطابق جیو نیوز کی نشریات معطل کرنے سے پہلے ادارے کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور یہ وضاحت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا کہ ادارتی نگرانی کے نظام میں کہاں اور کیسے خامی پیدا ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا اداروں اور ریگولیٹر دونوں کو اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے ایسے نقائص دور کرنے چاہئیں جو مستقبل میں مزید بحرانوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جیو نیوز کے خلاف کارروائی نے ایک بار پھر پاکستان میں میڈیا کی آزادی، ادارتی ذمہ داری، مذہبی حساسیت اور ریگولیٹری اختیارات کے درمیان توازن کے سوال کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف مذہبی جذبات کے احترام اور ذمہ دار صحافت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا کسی بڑے میڈیا ادارے کو سنے بغیر معطل کرنا مناسب طرز عمل ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ نہ صرف جیو نیوز بلکہ پوری میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔

وی لاگر راجہ عامر شہزاد کا موقف ہے جیو میں یہ قابل اعتراض ڈاکیومنٹری کس نے بنائی یہ پروڈکشن کس کی تھی اور پھر کس نے فائنل approval دی کم از کم ان کے خلاف تو مقدمات درج ہونے چاہیں یہ عام معاملہ نہی ہے جیو نے حدود لا کے خلاف جو مہم چلائی وہ مجھے اندازہ نہی مگر شاید امریکن فنڈنگ تھی پھر انڈیا کے لیے امن کی آشا چلائی تھی ویسے جیو کو امریکن فنڈنگ ایک ثابت شدہ معاملہ ہے نجی چینل کو یہ پیسہ مشرف دور میں ملا تھا امریکہ لبرل اسلام کا تصور اسلامی ملکوں
میں لانا چاہتا تھا آپ کو ایسے تمام متنازعہ کردار ہمیشہ جیو سے وابسطہ ملیں گےیہ اتنا حساس معاملہ ہے کہ ڈنمارک کے ایک اخبار نے جب گستاخانہ خاکے بنائے تھے یہاں ڈنمارک میں مسلمانوں نے آدھا شہر جلا دیا تھا دنیا بھر میں بائیکاٹ ہوا ڈنمارک کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا پاکستان میں اس وقت امریکن سینٹر پر حملہ ہوا ڈینش ایمبیسی پر کار بم مارا ایمبیسی تباہ ہو گئی تھی ڈنمارک کی کمپنی تھی ڈیری کی آرلا مڈل ایسٹ ڈیری پروڈکٹ بیچتی تھی اس کا بائیکاٹ ہوا اتنا گھاٹا پڑا کہ وہ بیچنی پڑ گئی شاید سویڈین نے خرید لی تھی
یہ بہت نازک معاملات ہیں اس سے بھڑکی آگ بھجانا مشکل ہو جاتا ہے وزارت اطلاعات جیوکے تمام سرکاری اشتہارات بند کرنے کا اعلان کرے ورنہ لوگ یہی سمجھیں گے ان کو علامتی سزا دے کر بچا رہے ہیں
نبی کریم ﷺ اور مقدس ہستیوں کے AI سے جو خاکے اور واقعات کو دوبارہ عکس بند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے کیا آپ کو اندازہ ہے اس سے کیا طوفان آئے گا ؟ کیسی کیسی گستاخیاں شروع ہوں گی ؟ ان ہستیوں کے خاکوں کی اشاعت پر تو مسلمانوں نے عالمی سطح پر احتجاج کر رکھے ہیں آپ اس کو normalise کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟
جیو نے مذاق بنایا ہوا ہے اب کہتے ہیں کہ ہماری یہ پالیسی نہی تھی تو پھر یہ پیغمبروں کے بیت اطہار کے مکمل خاکے کیسے چل گئے ؟
ایڈیٹوریل بورڈ کہاں تھا؟ جیو کی معطلی کافی نہی ہے ان کو جو اربوں کے سرکاری اشتہارات دیتے وہ بند کرنے کی ضرورت ہے‏🚨🚨 جیو کی چند دن کی نمائشی معطلی کافی نہیں ہے۔

جیو نے “سفر عشق” کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری چلائی جس میں AI کی مدد سے نبی کریم ﷺ کا جسم اطہر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جسم اور تمام اہل بیت کے تصوراتی جسم بنائے۔ پاکستان میں جیو نے شروع سے ہی مذہب میں خرابی کی بنیاد رکھی ہے۔ مشرف دور میں انہوں نے حدود قوانین کے خلاف لمبی اشتہاری مہم چلائی، وہ قوانین پھر تبدیل ہو گئے۔ رمضان میں کھیل تماشے والی ٹرانسمیشن، عالم آن لائن کے نام پر عامر لیاقت جیسے کردار جیو کی ہی عطا ہیں۔ غرض مذہب کے حوالے سے باریک وارداتوں کی لمبی تاریخ ہے، چند دن کی معطلی سے کیا ہوگا؟ یہ یوٹیوب پر چلتے رہیں گے۔ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات ملتے ہیں، وہ بند ہونے چاہییں ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ وزارت اطلاعات انہیں بچا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں