ریٹائرمنٹ سے قبل رضاکارانہ سبکدوشی، پھر فوری طور پر ایف پی ایس سی کی رکن تعیناتی؛ احسن اقبال کی بہن کی تقرری پر سوالات
اسلام آباد: ملک میں بڑھتی بے روزگاری اور نوجوانوں کو روزگار کے محدود مواقع ملنے کی شکایات کے درمیان وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی بہن عائشہ حمیرا چوہدری کی ریٹائرمنٹ اور فوری نئی تعیناتی نے بحث چھیڑ دی ہے۔
کابینہ ڈویژن کے 24 جون 2026 کے جاری کردہ دو الگ الگ نوٹیفکیشنز کے مطابق عائشہ حمیرا چوہدری، جو گریڈ 22 کی افسر اور سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈویژن کے عہدے پر فائز تھیں، نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دی جسے وزیراعظم کی منظوری کے بعد یکم جولائی 2026 سے مؤثر قرار دیا گیا۔
اسی روز جاری کیے گئے ایک اور نوٹیفکیشن کے تحت صدرِ پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 242 اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کے تحت عائشہ حمیرا چوہدری کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد تین سال کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کا رکن مقرر کر دیا۔ یہ تقرری بھی یکم جولائی 2026 سے مؤثر ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی نوٹیفکیشن میں اس سے قبل 19 مارچ 2026 کو ایف پی ایس سی کے رکن مقرر کیے گئے ریٹائرڈ گریڈ 22 افسر اعزاز اسلم ڈار کی تقرری بھی واپس لے لی گئی، جس کے بعد عائشہ حمیرا چوہدری کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن وفاقی سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں اور اعلیٰ عہدوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا ذمہ دار آئینی ادارہ ہے، جس کے ارکان کی تقرری غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب ملک کے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں تو ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل رضاکارانہ سبکدوشی دے کر فوری طور پر ایک اور اہم سرکاری عہدے پر تعینات کرنا کس حد تک مناسب ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ چونکہ عائشہ حمیرا چوہدری وفاقی وزیر احسن اقبال کی بہن ہیں، اس لیے اس تقرری کے حوالے سے شفافیت اور میرٹ کے سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عائشہ حمیرا چوہدری ایک سینئر اور تجربہ کار بیوروکریٹ ہیں اور انہیں ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سیاسی و انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ تقرری قانونی دائرہ کار میں کی گئی ہے، تاہم عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو ایسے فیصلوں کی وجوہات اور طریقہ کار کے بارے میں مکمل وضاحت دینی چاہیے تاکہ کسی قسم کے تنازع یا شکوک و شبہات کو جنم نہ ملے۔