کشمیری وفد کی جنیوا میں او آئی سی کے مستقل نمائندہ سے ملاقات

کشمیری وفد کی جنیوا میں او آئی سی کے مستقل نمائندہ سے ملاقات

جنیوا: کشمیری وفد نے آج جنیوا میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مستقل نمائندہ سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ وفد نے اس امر کو سراہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مسلسل مذمت کی ہے۔

وفد نے او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن (IPHRC) کے آزاد جموں و کشمیر کے دورے اور اس کی رپورٹس کو بھی سراہا۔ اس موقع پر وفد نے تشویش کا اظہار کیا کہ متعدد درخواستوں اور رابطوں کے باوجود بھارت نے او آئی سی کے وفود کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی، جس سے وہاں کی حقیقی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لینے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

وفد کی قیادت الطاف حسین وانی نے کی۔ وفد میں بین الاقوامی تنظیموں، تھنک ٹینکس اور علمی حلقوں کے نمائندگان شامل تھے جن میں سید پرویز شاہ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، سید فیض نقشبندی، ڈاکٹر ولید رسول اور ڈاکٹر سارہ شاہ شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وفد نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد نے بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادیِ اظہارِ رائے، آزادیِ اجتماع، آزادیِ صحافت اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ متعدد سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندی لگائی جا چکی ہے جبکہ سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے محافظوں، وکلاء اور صحافیوں کو انسدادِ دہشت گردی کے قوانین اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کے تحت گرفتار اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔

وفد نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ علاقے میں من مانی گرفتاریوں، طویل نظربندیوں، گھروں پر چھاپوں، جائیدادوں کی ضبطگی، سفری پابندیوں اور شہری آزادیوں کی مسلسل پامالی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ نوجوانوں کو اکثر بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا جاتا ہے جبکہ میڈیا اداروں اور صحافیوں کو سخت نگرانی، دباؤ اور سنسرشپ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں آزاد صحافت شدید متاثر ہوئی ہے۔

وفد نے مزید بتایا کہ مذہبی آزادیوں پر بھی قدغنیں عائد ہیں اور جمعہ کے اجتماعات، محرم کے جلوسوں اور دیگر مذہبی سرگرمیوں پر مختلف نوعیت کی پابندیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ وفد کے مطابق آبادی کے تناسب، زمین کی ملکیت اور سیاسی نمائندگی سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں نے کشمیری عوام میں اپنے تشخص، زمین اور وسائل کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کیے ہیں۔ وفد نے اس تناظر میں دو تحقیقی رپورٹس بھی او آئی سی کے مستقل نمائندہ کو پیش کیں۔

او آئی سی کے مستقل نمائندہ نے وفد کو یقین دلایا کہ تنظیم جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی اور مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنی سفارتی اور سیاسی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں