قومی اسمبلی میں حکومت اور پی ٹی آئی ارکان آمنے سامنے، اسپیکر کی مداخلت سے صورتحال قابو میں آ گئی

قومی اسمبلی میں حکومت اور پی ٹی آئی ارکان آمنے سامنے، اسپیکر کی مداخلت سے صورتحال قابو میں آ گئی

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث ایوان میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ صورتحال اس وقت مزید گرم ہوگئی جب وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کے درمیان تلخ کلامی شروع ہوگئی۔

اجلاس کے دوران عاطف خان نے رانا تنویر حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “آپ چپ کر جائیں”، جس پر رانا تنویر حسین نے جواب دیتے ہوئے کہا، “میں آپ کے لیڈر کو خوب جانتا ہوں، آج آپ کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ مکافاتِ عمل ہے۔ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ وہ منتخب ہو کر آئے ہیں، کیا ہم منتخب ہو کر نہیں آئے؟”

ایوان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا، “رانا صاحب درگزر کریں، ڈوگر صاحب آپ کے بھتیجے ہیں”، اور دونوں جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

اس موقع پر عاطف خان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، “رانا صاحب، آپ کو عدالت میں نہ گھسیٹا تو بولیں۔”

جواباً رانا تنویر حسین نے کہا، “پی ٹی آئی والے لاکھ برا چاہیں تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو مکافاتِ عمل ہوتا ہے۔”

بعد ازاں رانا تنویر حسین نے اپنی گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات دراصل “مکافاتِ عمل” کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہمارے دروازے توڑے گئے، ہمیں مولانا فضل الرحمان سمیت کہا گیا کہ اس اسمبلی کا حلف نہ لیں مگر ہم نے یہ بات نہیں مانی۔ ہم مسلسل کہتے رہے کہ عمران خان صاحب مل کر آگے بڑھیں۔ عمران خان کو بھی کہا کہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ نہ کریں، لیکن ہماری بات نہ مانی گئی۔”

اسپیکر کی مداخلت کے بعد ایوان میں صورتحال معمول پر آگئی اور اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ تاہم حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہونے والی اس تلخ کلامی نے قومی اسمبلی کے ماحول کو خاصا گرما دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں