امریکا۔ایران مفاہمتی معاہدے میں پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار کے کردار کا دعویٰ
اسلام آباد: معروف صحافی اور تجزیہ کار ابصار عالم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے میں پاکستان نے پسِ پردہ اہم کردار ادا کیا، جبکہ معاہدے کی دستاویز پر ایک پاکستانی اعلیٰ عہدیدار نے بطور گواہ دستخط بھی کیے۔
ابصار عالم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے امریکا۔ایران امن معاہدے میں شامل اہم ذرائع سے بات کی ہے، جن کے مطابق 15 جون کی شب طے پانے والی ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (MoU) پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ڈاکو سائن کے ذریعے دستخط کیے۔
ذرائع کے مطابق دستاویز پر ایک تیسرا دستخط بطور گواہ موجود ہے، جو پاکستان کے ایک انتہائی اعلیٰ سطحی عہدیدار کا بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس شخصیت کی شناخت کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شخصیت پاکستان کے طاقتور حلقوں کی اعلیٰ ترین قیادت میں شامل ہے۔
ابصار عالم کے مطابق ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امن عمل کا ایک نہایت اہم اور ڈرامائی مرحلہ اپریل 2026 میں اسلام آباد میں پیش آیا، جب امریکی اور ایرانی وفود براہِ راست مذاکرات میں مصروف تھے اور معاہدہ طے پانے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات کا ایک وفد اچانک اسلام آباد پہنچا جو مبینہ طور پر اسرائیل کا ایک اہم پیغام امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے لیے لے کر آیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے چند ہی گھنٹوں بعد مذاکراتی ماحول یکسر تبدیل ہو گیا۔ جے ڈی وینس نے اچانک ایک مختصر پریس کانفرنس کے بعد مذاکراتی عمل چھوڑ دیا اور پاکستان سے روانہ ہو گئے، جس کے باعث معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا۔
ابصار عالم نے مزید دعویٰ کیا کہ متعدد ذرائع کے مطابق اسرائیلی مداخلت کئی مواقع پر مذاکراتی عمل کے لیے رکاوٹ بنی، تاہم اسلام آباد نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھے۔ پسِ پردہ سفارتی پیغامات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ بعض عوامی اشارے بھی سامنے آئے، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے اسرائیل کے حوالے سے سخت بیانات شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بالآخر مسلسل سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اس ہفتے معاہدے پر ورچوئل دستخط کیے گئے اور امریکا۔ایران مفاہمتی عمل کو حتمی شکل دے دی گئی۔
تاہم اس حوالے سے امریکا، ایران یا پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اور ابصار عالم کے یہ دعوے آزاد ذرائع سے تصدیق کے منتظر ہیں۔