برسلز: ہمیں آزاد کشمیرکی صورتحال پر سخت تشویش ہے، مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے، چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید
برسلز (پ۔ر)
چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے آزادکشمیر کے بگڑتے ہوئے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ مسائل کو تشدد کے بجائے مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کریں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے آزاد کشمیر میں احتجاج کے دوران جانی نقصانات پربہت افسوس ظاہر کیا اور کہاکہ کسی بھی صورت میں تشدد مسائل کا حل نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے، مسائل کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر لا کر پرامن حل تلاش کیا جائے۔ مزید خون خرابہ ہرگز کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں کیونکہ تشدد و خونریزی کشمیریوں کی وحدت اور کشمیر کاز کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
علی رضا سید نے یہ واضح کیا کہ تمام کشمیری عوام بشمول اوورسیز کشمیری ہرگز پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ وہ پاکستان سے دل و جان سے پیار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیرکا ایک اہم مرکز اور بنیادی کیمپ ہے اور اگرجموں و کشمیرکے اس آزاد حصے کے حالات مزید خراب ہوئے تو بھارت اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچے گا۔
علی رضا سید نے کہاکہ ہم نے اس سے پہلے بھی دیکھا ہے کہ بھارت جو کشمیریوں کا دشمن ہے، ہمیشہ سے کشمیر میں بدامنی اور انتشار کو فروغ دیتا رہا ہے۔ وہ کئی دہائیوں سے اس تلاش میں رہا ہے کہ وہ کس طرح آزاد کشمیر کے لوگوں میں پھوٹ ڈالے لیکن ابھی تک وہ اس سازش میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
موجودہ صورت حال میں بھارت کی آنکھیں ایک بار پھر اس طرف لگی ہوں گی کہ وہ کس طرح کشمیری عوام کی صفوں میں شگاف ڈال کر اپنا مقصد حاصل کرے۔
آزاد کشمیر کے خراب حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر اپنے ظلم و ستم پر آسانی سے پردہ ڈال سکتا ہے اور اس طرح وہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے ہٹانے کی کوشش کرے گا۔
علی رضا سید نے اوورسیز کشمیریوں کی آزاد کشمیر کے حالات پر تشویش کے بارے میں کہاکہ آزاد کشمیرکی صورتحال پر اووورسیز کشمیری کی تشویش فطری امر ہے۔ اوورسیز کشمیریوں کی جڑیں آزاد کشمیر میں ہیں اور ان کے خاندان و عزیز و اقارب وہاں ہیں، وہ ہرگز غیرجانبدار اور بے خبر نہیں رہ سکتے۔ تمام خطوں کے کشمیریوں کی طرح اوورسیز کشمیری بھی پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور وہ ہرگز پاکستان کے مفادات کے خلاف اقدام نہیں کرسکتے ہیں لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ آزاد کشمیر کی گھمبیر صورتحال سے الگ رہیں یا اسے نظرانداز کردیں۔
چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے کہاکہ میں آزادکشمیر حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر تمام جماعتوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لے کر پرامن طریقے سے مسئلہ حل کرے اور احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر جائز مطالبات کو پورا کرے۔
دوسرے فریق کو بھی چاہیے کہ وہ سمجھے کہ کسی بھی قسم کی قانون شکنی یا تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عقل مندی اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ پرامن طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے دونوں فریقین کو سخت رویہ ترک کرکے گفتگو کرنی ہوگی۔
علی رضا سید نے کہاکہ کشمیر کاز ہمارا مشترکہ نصب العین ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے کشمیریوں کا متحد ہونا انتہائی ضروری ہے۔ آئیے ہم سب اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشمیر کی آزادی کی اس عظیم جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔
چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے تمام سیاسی جماعتوں، علاقہ کے عمائدین، سول سوسائٹی اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کے خاتمے کے لیے تعاون کریں اور حالات کو معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
خاص طور پر آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے لیے آزمائش کا وقت ہے کہ وہ کس طرح ایک مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ مظاہرین سے بات کریں اور حکومت کو بھی مذاکرات کے لیے آمادہ کریں۔ سیاسی و سماجی عمائدین کو چاہیے کہ ناراض لوگوں کی دلجوئی کریں اور دوطرفین کے مابین پیدا ہونے والی کی غلط فہمیاں دور کریں۔