حکومت عوام اور کاروباری طبقے کو مزید بوجھ تلے دبانے کے بجائے صنعت و تجارت کو آئی سی یو سے نکالنے کے اقدامات کرے، کاشف چوہدری صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی تاجر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس
اسلام آباد(8جون2026) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی معاشی پالیسیوں اور تاجر کش اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے سودی نظام معیشت کے خاتمے، شرح سود کو 6 فیصد تک لانے، وفاقی و صوبائی اخراجات میں کمی، آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس ختم کرنے، شاہانہ سرکاری اخراجات، وی آئی پی کلچر، پروٹوکول اور غیر ضروری سرکاری مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھاری قرضوں، نااہلی، بدانتظامی، کرپشن، بدترین مہنگائی، ناقابل برداشت ٹیکسز، مہنگی بجلی و گیس، لاک ڈاؤن پالیسیوں اور معاشی بدحالی نے ملکی صنعت و تجارت کو آئی سی یو میں پہنچا دیا ہے۔ ایسے حالات میں وفاقی بجٹ سے کسی بڑی معاشی ریلیف کی امید رکھنا مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم حکومت اگر سنجیدہ ہے تو اسے صنعت و تجارت کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے،فکسڈ ٹیکس سکیم مبہم ہے اسے شکوک و شپبات پیدا ہو رہے ہیں ٹیکس ریٹرن اسان اور سادہ فارم سب کے لئے یکساں نافذ ہونا چاہئیے ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے تاجر نمائندوں خیبر پختونخوا کے صدر شرافت علی ،راولپنڈی کے صدر شرجیل میر و دیگر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں پری بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا
انہوں نے کہا کہ کاروباری اوقات کار کی پابندیاں، مارکیٹوں کی بندش اور لاک ڈاؤن جیسی پالیسیاں معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئیں، اس لیے حکومت فوری طور پر کاروباری پابندیوں کا خاتمہ اور مارکیٹوں کی مکمل آزادی کا اعلان کرے۔
کاشف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں نظرثانی شدہ تقریباً 13450 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے باوجود ایف بی آر 868 ارب روپے سے زائد شارٹ فال کا شکار رہی، ایسے میں سوال یہ ہے کہ حکومت آئندہ سال 15000 ارب روپے سے زائد ٹیکس اہداف کس بنیاد پر مقرر کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید ٹیکسز کا نفاذ پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری پیدائش سے موت تک مختلف شکلوں میں ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ تاجروں پر پہلے ہی بجلی بلوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس، میونسپل ٹیکسز، پروفیشنل ٹیکس، صفائی ٹیکس، لائسنس فیس اور متعدد دیگر مالی بوجھ موجود ہیں۔ اس کے باوجود تاجروں کو ٹیکس نہ دینے والا طبقہ قرار دینا حقائق کے برعکس ہے۔
مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے پوائنٹ آف سیل سسٹم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام تاجروں کیلئے سہولت کے بجائے بلیک میلنگ، جرمانوں، کرپشن اور کاروبار سیل کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معمولی غلطیوں پر دکانیں سیل کرنے کے بجائے اصلاحی نظام متعارف کروایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی متعارف کردہ فکس ٹیکس اسکیم کا جائزہ تاجر خود کریں کہ آیا یہ ان کیلئے فائدہ مند ہے یا موجودہ نارمل ٹیکس رجیم زیادہ بہتر ہے، تاہم کسی بھی ظالمانہ نظام کو بزور طاقت نافذ کرنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔
کاشف چوہدری نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس فری آمدن کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کی جائے جبکہ 45 سے 60 فیصد تک انکم ٹیکس سلیبز کو نمایاں طور پر کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپوں، جرمانوں اور ہراسانی کے ماحول میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ ممکن نہیں۔
انہوں نے جائیداد، کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر عائد ٹیکسز میں نمایاں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی بحالی سے 80 سے زائد صنعتوں کا پہیہ دوبارہ چل سکتا ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول کے ساتھ صنعت و تجارت کا چلنا ممکن نہیں۔ حکومت صنعتوں کیلئے سستی بجلی فراہم کرے، پٹرولیم لیوی ختم کرے، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کرے اور بجلی بلوں پر عائد اضافی ٹیکسز واپس لے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق غربت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ عوام کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے، ایسے میں مزید ٹیکس عائد کرنے کے بجائے حکومتی اخراجات کم کیے جائیں۔
کاشف چوہدری نے سودی نظام معیشت کے خاتمے، شرح سود کو 6 فیصد تک لانے، وفاقی و صوبائی اخراجات میں کمی، آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپسٹی پیمنٹس ختم کرنے، شاہانہ سرکاری اخراجات، وی آئی پی کلچر، پروٹوکول اور غیر ضروری سرکاری مراعات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیاانہوں نے کہا کہ قوم وفاقی بجٹ کی منتظر ہے، اگر بجٹ میں عوام دوست اور سرمایہ کار دوست اقدامات نہ کیے گئے تو تاجر برادری آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا کے صدر شرافت علی، راولپنڈی کے صدر شرجیل میر اور دیگر تاجر رہنماوں نے بھی خطاب کیاشرجیل میر نے کہا کہ حکومت تاجروں اور عوام پر مزید ٹیلسز لگانے سے باز رہے تاجر پہلے بھی ٹیکس دیتا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہے گا شرافت علی نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں قوم پر رحم کرے ٹیکس دینے والوں کو سہولیات دینی چاہئیےحکومت نے تاجروں پر مزید ٹیکسز لگائے تو مشترکہ حکمت عملی سے لائحہ عمل لایا جائےگا
الیکٹرانک میڈیا ٹکرز 08/06/2026
کاشف چوہدری صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی تاجر رہنماوں کے ہمراہ پری بجٹ پریس کانفرنس
کاشف چوہدری کی حکومتی پالیسیوں اور آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکسز لگانے پر سخت تنقید
قرضوں، بدانتظامی، کرپشن، مہنگائی اور ناقابل برداشت ٹیکسز نے معیشت کو آئی سی یو میں پہنچا دیاکاشف چوہدری
وفاقی بجٹ سے ریلیف کی امید رکھنا دیوانے کا خواب بن چکا ہےکاشف چوہدری
صنعت و تجارت کو زندہ رکھنا ہے تو لاک ڈاؤن نما پالیسیوں اور کاروباری پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے کاشف چوہدری
مارکیٹوں کی ویرانی کا ذمہ دار کون؟ کاشف چوہدری
لاک ڈاؤن جیسی پالیسیوں نے ملک کو کیا دیا؟ کاشف چوہدری
حکومت تاجروں کو زندہ دفن کرنے کی بجائے کاروباری اوقات کار کی پابندیاں ختم کرے کاشف چوہدری
گزشتہ سال ٹیکس ہدف پورا نہ کرنے والی حکومت 15 ہزار ارب روپے کیسے اکٹھے کرے گی؟ کاشف چوہدری
نئے ٹیکسز لگانا پہلے سے دم توڑتی معیشت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے کاشف چوہدری
ہر پاکستانی پیدائش سے موت تک ٹیکس دیتا ہے، پھر بھی کہا جاتا ہے لوگ ٹیکس نہیں دیتے کاشف چوہدری
تاجر 27 قسم کے ٹیکس، لائسنس، فیسیں اور اداروں کے مطالبات پورے کر رہا ہےکاشف چوہدری
ایف بی آر نے تاجروں کو ٹیکس کلیکشن ایجنٹ بنا کر ہراسانی اور بلیک میلنگ کا نظام قائم کر رکھا ہے کاشف چوہدری
پوائنٹ آف سیل نظام کے ذریعے چھاپوں، جرمانوں اور دکانیں سیل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے کاشف چوہدری
معمولی غلطیوں پر دکانیں سیل کرنا معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے کاشف چوہدری
انکم ٹیکس کے 45 سے 60 فیصد تک کے سلیب کم کیے بغیر کاروبار نہیں چل سکتا کاشف چوہدری
چھوٹے تاجروں کو آڈٹ، چھاپوں اور جرمانوں کے خوف سے آزاد کیا جائے کاشف چوہدری
جائیداد، تعمیرات اور صنعتوں پر ٹیکس کم کیے بغیر معاشی پہیہ نہیں چل سکتا کاشف چوہدری
رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن بحال کیے بغیر 80 سے زائد صنعتیں بحال نہیں ہو سکتیں کاشف چوہدری
مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول کے ساتھ حکومت سرمایہ کاری کی امید کیسے رکھ سکتی ہے؟ کاشف چوہدری
صنعتوں کو سستی بجلی دیے بغیر روزگار اور سرمایہ کاری ممکن نہیں کاشف چوہدری
بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کا بوجھ ختم اور ظالمانہ سلیب سسٹم ختم کیا جائے کاشف چوہدری
200 یونٹ اور 201 یونٹ پر قیمتوں کا سو فیصد فرق عوام کے ساتھ ظلم ہے کاشف چوہدری
غربت بڑھ رہی، قوت خرید ختم ہو رہی، ایسے میں نئے ٹیکس لگانا تباہی ہو گی کاشف چوہدری
سود کی ادائیگیوں نے ملکی معیشت کو جکڑ رکھا ہے، شرح سود فوری کم کی جائے کاشف چوہدری
آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹس قوم پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکی ہیں کاشف چوہدری
عوام مہنگائی سے مر رہی ہے اور افسر شاہی عیاشیاں کر رہی ہے کاشف چوہدری
شاہانہ پروٹوکول، وی آئی پی کلچر اور حکومتی فضول خرچیاں ختم کی جائیں کاشف چوہدری
فکسڈ ٹیکس سکیم کے لئے 25ہزار فکسڈ ٹیکس نہیں ہے۔کاشف چوہدری
تاجر دوست سکیم کو ظالمانہ اندازمیں ڈنڈے کے زور پر نافذ کر۔نے کی کوشش ہم نے ناکام بنائی کاشف چوہدری
اس سکیم کو اگر حکمران دودھ و شہد کی نہریں سمجھتے تو یہ ایسا نہیں ۔کاشف چوہدری
ٹیکس ریٹرن فارم کو اردو سمیت تمام مقامی زبانوں میں اسان اور سادہ بنایا جائے کاشف چوہدری
جیولر ز سیکٹر کے لئے کیٹگریاں بنا کر حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں کاشف چوہدری
حکمران معشیت کو چلانا چاہتے ہیں تو مشرق وسطی کی جنگ کے تناظر میں بیرون ملک کا سرمایہ واپس لایا جائے کاشف چوہدری
کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے وطن عزیز کو سودی نظام میں جکڑ دیا گیا ہے کاشف چوہدری
سود کے نظام کو ختم کیا جائے۔وصول کیے گئے ٹیکس سے 87ہزار ارب سود کی مد میں خرچ ہوتے ہیں کاشف چوہدری
انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو تنخواہ داروں اور تاجروں کے لئے پندرہ لاکھ کیا جائے کاشف چوہدری
شرح سود کو فی الفور چھ فیصد پت لایا جائے تاکہ 35سو ارب کے اخراجات کم کیے جا سکیں کاشف چوہدری
ایک فیصد شرح سود بڑھنے کا مطلب 562ارب کا بوجھ عوام پر ڈالنا ہے کاشف چوہدری
18ویں ترمیم کے بعد وفاق کے زبردستی اکٹھے کیے گئے ٹیکس کا 60فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے کاشف چوہدری
صوبوں کو فراہم کی جانے والی رقم کے نظام کا از سر نو جائزہ لیا جائے کاشف چوہدری
صوبوں کو دئیے جانے والی رقوم کی تقسیم کار کا فارمولہ عجیب ہے کاشف چوہدری
ابادی کے لحاظ سے لاہور میں 14ہزار فی ادمی اورپسماندہ جنوبی پنجاب میں پانچ ہزار فی ادمی لگانا نا انصافی ہے کاشف چوہدری
انتظامی بنیادوں پر صوبے بنا کر وفاق کو انتظامی اور مالی طور پر مضبوط بنایا جائے کاشف چوہدری
انتظامی بنیادوں پر ملک میں نئے صوبے بنائیں جائیں کاشف چوہدری
اربوں کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی اخراجات کا ستر فیصد کرپشن کی نذر ہوتا ہے کاشف چوہدری
وفاق کے ایک ہزار ارب اور صوبوں کے تین ہزار ارب کا ترقیاتی بجٹ ہنگامی معاشی حالات کے مطابق 50فیصد کم کیا جائے کاشف چوہدری
آئی پی پیز کے نام پر چند افراد کو کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر دئیے جانے والے 25سو ارب کو بند کیا جائے کاشف چوہدری
سلائرئزیشن کے بعد مزید پاور پلانٹس سے نئے معاہدوں کے بجائے ہیڈرل پاور ۔ونڈ پاور۔سیلولر نیوکلئیر سستی بجلی کے منصوبے لگائے جائیں کاشف چوہدری
حکمرانوں اور اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں کاشف چوہدری
ایک ایک افسر ڈیڑھ کروڑ سے زائد تنخواہ اور مراعات لیتا ہے کاشف چوہدری
ایسے افسران ملک کو چونکوں کی طرح کھا رہے ہیں کاشف چوہدری
شاہانہ پروٹوکول وی ائی پی کلچر بیرونی دوروں پر پابندی عائد کی جائے کاشف چوہدری
اگر بجٹ میں عوام دوست اور سرمایہ دوست اقدامات نہ ہوئے تو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے کاشف چوہدری
پریس کانفرنس سے کے پی کے صدر شرافت اور پنڈی کے صدر شرجیل میر کا خطاب
حکومت تاجروں اور عوام پر مزید ٹیلسز لگانے سے باز رہے شرجیل میر
تاجر پہلے بھی ٹیکس دیتا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہے گا شرجیل میر
حکمران ہوش کے ناخن لیں قوم پر رحم کرے شرافت علی
ٹیکس دینے والوں کو سہولیات دینی چاہئیے شرافت علی
حکومت نے تاجروں پر مزید ٹیکسز لگائے تو مشترکہ حکمت عملی سے لائحہ عمل لایا جائےگا شرافت علی