جرنلسٹس پلاٹ الاٹمنٹ کمیٹی میں نمائندگی کے فیصلے پر صحافتی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آگئیں

اسلام آباد: جرنلسٹس پلاٹ الاٹمنٹ کمیٹی میں نمائندگی کے فیصلے پر صحافتی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آگئیں
وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جرنلسٹس پلاٹ الاٹمنٹ کمیٹی میں چاروں گروپوں کو نمائندگی دینے کے فیصلے کے بعد صحافتی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف آراء اور تجاویز سامنے آئی ہیں۔
اس حوالے سے نواز رضا کی پوسٹ کے بعد مختلف صحافیوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
ثنا اللہ نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ان کی رائے میں کمیٹی میں صحافیوں کو شامل ہی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر وزارتِ اطلاعات اور ہاؤسنگ اتھارٹی کے حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جاتی تو اب تک یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔
اویس یوسف زئی نے کہا کہ چاہے چار گروپوں کے افراد کو پلاٹس دیے جائیں یا چھ گروپوں کے، لیکن جعلی صحافیوں اور ان افراد کو کسی صورت شامل نہیں کیا جانا چاہیے جو مجموعی طور پر 20 سال کے تجربے اور کم از کم 15 سال مسلسل اسلام آباد میں صحافت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
سردار شوکت محمود نے کمیٹیوں اور گروپ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹیوں کے کھیل نے صحافیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق صحافی انتظار کرتے رہ گئے جبکہ کمیٹیوں اور گروپوں کی سیاست جاری رہی۔
شہر یار خان نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ چار گروپ کون سے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ جو بھی گروپ نمائندگی کا دعوے دار ہو اسے اپنی یونین کے اراکین کی مکمل فہرست جاری کرنی چاہیے اور ارکان کی تعداد واضح کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود سطح پر تنظیمیں بنانے کے رجحان سے صحافتی اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
شاھد میتلا نے کہا کہ انہوں نے 2018 میں افضل بٹ اور دیگر افراد کو تجویز دی تھی کہ اگر انہیں یہ معاملہ میرٹ پر چلانے کا اختیار دیا جاتا تو وہ تین ماہ میں صحافیوں کو پلاٹس دلوا سکتے تھے، تاہم اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا۔
اظہر فاروق نے نئی کمیٹی کے قیام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزید تاخیر کا خدشہ ہے اور نئے سرے سے آغاز کا جواز نہیں بنتا۔ ان کے مطابق ورکرز کی قیادت زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔
قربان بلوچ نے کہا کہ نمائندگی اور کمیٹیوں کے معاملے کو پندرہ سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے جبکہ درخواست دہندگان کی عمریں ساٹھ برس کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس عمل میں مزید تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔
سردار نعیم صدیقی نے بھی کمیٹی سازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزارتِ اطلاعات اور ہاؤسنگ حکام خود یہ معاملہ حل کریں جبکہ پریس کلب کے موجودہ صدر اور سیکرٹری رہنمائی فراہم کریں۔ ان کے مطابق پلاٹس کے معاملے پر غیر ضروری سیاست کی جا رہی ہے اور اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو یہ مسئلہ ایک ہفتے میں حل ہو سکتا ہے۔
صحافتی حلقوں میں سامنے آنے والی آراء سے مجموعی طور پر یہ تاثر سامنے آیا کہ صحافی برادری کا ایک بڑا طبقہ پلاٹس کی تقسیم کے عمل میں گروہی نمائندگی کے بجائے شفافیت، میرٹ اور فوری فیصلوں کو ترجیح دے رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں