لاہور ہائیکورٹ میں کراچی کی وارثتی پراپرٹی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر کیس نمٹا دیا۔کیس کی سماعت جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کی، جنہوں نے شہری بلال محمد خان کی دائر کردہ درخواست پر کارروائی کی۔ سماعت کے دوران آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ایس پی اخلاق تارڈ کے کردار پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایس پی فیلڈ میں رہا تو آئی جی کی روز پیشیاں پڑتی رہیں گی, درخواست گزار نے مؤقف اپنایا تھا کہ اس کی بہن نے وارثتی پراپرٹی کے حوالے سے غلط درخواست دائر کر رکھی ہے, عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس، پولیس افسران، اور درخواست گزار کے وکیل محد شان گل ایڈوکیٹ پیش ہوئے سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے درمیان دلچسپ مکالمے بھی ہوئے, آئی جی نے مؤقف دیا کہ میں نے معاملہ دیکھا ہے، ایس پی نے غلط کیا، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، اسے ڈسپلئیر لیٹر دیا ہے، حالانکہ وہ کیئر افسر ہے, عدالت نے کہا، آپ نے اچھا کیا، ڈسپلئیر نوٹس کو فریم کر کے رکھیں اپنے دفتر میں بھی لگائیں اور اس کے دفتر میں بھی آئی جی نے بتایا کہ “یہ افسر ایماندار ہے جس پر جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے یہ لگ تو نہیں رہا، یہ منی میٹر ہے، اس نے کہا تھا کہ آئی جی کو نہ بلائیں، ڈی آئی جی کو بلا لیں اسے آپ کی کمانڈ پر شک ہے, عدالت نے کہا، “اس ایس پی کی گورمنگ کریں، اسے فیلڈ سے ہٹا کر اپنے دفتر یا ڈی آئی جی کے آفس میں لگائیں اگر یہ فیلڈ میں رہا تو آپ کو خراب کرے گا, واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق تارڈ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کے باعث عدالت نے آئی جی پنجاب کو طلب کیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ
کراچی کی وارثتی پراپرٹی کیس کی سماعت
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت دیگر پولیس افسران پیش
ایس پی اخلاق تارڈ کو فیلڈ میں تعینات نہ کیا جائے، عدالت کے ریمارکس
ایس پی فیلڈ میں رہا تو آئی جی کی روز پیشیاں پڑتی رہیں گی، عدالت کا انتباہ
جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری بلال محمد خان کی درخواست پر سماعت کی
شہری نے اپنی بہن کی جانب سے وارثتی پراپرٹی کے معاملے پر دی گئی درخواست کو چیلنج کر رکھا ہے
پولیس افسران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس کے ہمراہ پیش ہوئے
درخواست گزار کی جانب سے محد شان گل ایڈوکیٹ پیش ہوئے
آئی جی صاحب آگے آئیں ، کیا آپ نے یہ میٹر دیکھا ہے، جسٹس شہرام سرور چوہدری کا آئی جی سے مکالمہ
میں نے معاملہ دیکھا یے،ایس پی نے غلط کیا ، اسے ایسا نہیں کرنا چائیے تھا ، آئی جی ڈاکٹر عثمان انور
ایس پی کو ڈسپلئیر لیٹر دیا ہے، حالانکہ یہ کئیر افسر ہے ، لیکن اس کے باجود اسے نوٹس دیا ، آئی جی ڈاکٹر عثمان انور
آپ نے ایس پی کو ڈسپلئر نوٹس دیا اچھا کیا ، یہ تو کمال کردیا ، جسٹس شہرام سرور چوہدری کا آئی جی سے مکالمہ
ڈسپلیر نوٹس کو فریم کرکے رکھیں،اپنے دفتر میں بھی لگائیں اور اس کے دفتر میں بھی لگائیں ،جسٹس شہرام سرور چوہدری
ویسے یہ بڑا ایماندار افسر ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور
ویسے یہ لگ نہیں رہا ، یہ منی میٹر ہے،جسٹس شہرام سرور چوہدری کا آئی جی سے مکالمہ
اس ایس پی نے کہا تھا کہ ڈی آئی جی کو بلوالیں ، آئی جی کو نہ بلوائیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری
اس کو آپ کی کمانڈ پر شک ہے شاید آپ کا اس کے ساتھ رویہ ٹھیک نہیں،جسٹس شہرام سرور چوہدری
اس ایس پی کی گورمنگ کریں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری کا آئی جی سے مکالمہ
یہاں سے ہٹا دیتے ہیں ، آئی جی ڈاکٹر عثمان انور
پھر اسے ڈی آئی جی کے دفتر لگادیتے ہیں، یہ ان کا فوریٹ ہے، جسٹس شہرام سرور چوہدری
ہائیکورٹ طلبی پر پہلے آئی جی محسوس کیا کرتے تھے کہ مجھے تمھارے وجہ سے مجھے بلوایا ، آئی جی
اس ایس پی فیلڈ میں نہ رکھیں اسے اپنے دفتر میں رکھیں،یہ آپ کو مشورہ ہے، عدالت کا آئی جی سے مکالمہ
اگر یہ فیلڈ میں رہا تو آپ کو خراب کرے گا،جسٹس شہرام سرور چوہدری کا آئی جی سے مکالمہ
کراچی کی پراپرٹی کا معاملہ ہے اس نے معاملہ خود ٹیک آپ کرلیا ، جسٹس شہرام سرور چوہدری
معاملہ کراچی بھجوا دیا گیا ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور
عدالت کا ڈی آئی جی آپریشنز کا ایس پی آپریشنز ماڈل ٹاؤن اخلاق تارڈ کے حق میں بیان پر اظہار ناراضگی
اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کی بیک کر رہے ہیں ، عدالت کا ڈی آئی جی فیصل کامران سے مکالمہ
اسی طرح کے معاملات یہاں آتے روز آرہے ہیں ، آپ صوبے کے سربراہ ہیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری
اسی طرح کے افسر ہوں گے تو آپ کا یہاں عدالتوں میں وقت میں گزرنے گا، عدالت یا آئی جی سے مکالمہ
اگر آپ کی عدالتوں میں پیشیاں پڑتی رہیں تو پھر صوبے کا اللہ ہی حافظ ہوگا، جسٹس شہرام سرور چوہدری
اس ایس پی کی گورمنگ کریں ، اسے اپنے آفس میں رکھ لیں ، یہ مشورہ ہے آپ کو ، جسٹس شہرام سرور
یا بہتر ہے کہ اس کو ڈی آئی جی کے آفس میں لگا دیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری
عدالت نے درخواست واپس لینے کی بناء پر نمٹادی
ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق تارڈ کے گزشتہ سماعت پر مطمئن نہ کرنے پر عدالت نے آئی جی کو طلب کیا تھا