خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور آئینی مشینری کی ناکامی، صدر مملکت نے ایمرجنسی نافذ کر دی، وزیر اعلیٰ و کابینہ فارغ، انتظامی کنٹرول گورنر کے حوالے، مقررہ وقت کے اندر توثیق قومی اسمبلی و سینیٹ سے ہو گی، وفاقی وزراء

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور آئینی مشینری کی ناکامی، صدر مملکت نے ایمرجنسی نافذ کر دی، وزیر اعلیٰ و کابینہ فارغ، انتظامی کنٹرول گورنر کے حوالے، مقررہ وقت کے اندر توثیق قومی اسمبلی و سینیٹ سے ہو گی، وفاقی وزراء

اسلام آباد۔وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے سنگین خطرات، صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور آئینی مشینری کی ناکامی کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کے سپرد کر دیے ہیں۔ دو گھنٹے سے زائد طویل وفاقی کابینہ کے تفصیلی اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کی تشویشناک رپورٹ اور سکیورٹی اداروں کے مواد کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نے صدرِ مملکت کو ایمرجنسی کے نفاذ کی ایڈوائس بھیجی، جس کی قانونی ضروریات پوری ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، وزیر مملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری اور ثمر بلور کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں باضابطہ اعلان کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صورتحال کا تفصیلی پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کوئی آسان اقدام نہیں تھا بلکہ وفاقی حکومت ایک ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل کوشش کرتی رہی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑا جائے اور وہ خود ذاتی طور پر پس پردہ رابطوں میں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پہلے ہی ان کے تمام مطالبات، چاہے وہ ملاقاتیں ہوں یا علاج، پورے کیے جا رہے تھے اور وزیراعظم کے دورہ نیویارک سے قبل بھی اپوزیشن لیڈروں سے بات چیت طے تھی مگر وہاں سے حتمی جواب نہ ملا۔ بعد ازاں صدر اور وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں سے مذاکرات ہوئے، جہاں اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا عزم ظاہر کیا تاہم کے پی حکومت کو ان بورڈ کرنے کے معاملے پر ڈیڈ لاک رہا۔ مذاکرات میں تین سے چار بار ڈرافٹ فائنل ہوا اور ان کی تجاویز شامل کی گئیں، مگر ہر بار صوبائی حکومت کی طرف سے نیا مؤقف سامنے لا کر معاملے کو سبوتاژ کیا گیا۔ رات پونے 12 بجے تک حتمی رابطے کیے گئے تاکہ کوئی درمیانی راہ نکل سکے مگر کے پی قیادت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی وزیراعظم اور پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بھی بے نتیجہ رہیں۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ وفاق کو دھرنے یا لانگ مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، اصل معاملہ دہشت گردی کا تھا جس پر کے پی قیادت نے تعاون نہیں کیا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ شام کے بعد شہری گھروں سے نہیں نکل سکتے، الیکشن کمیشن کے سینیئر افسر کو شہید کیا گیا، پولیس کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، کسٹمز اور فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کے پی حکومت کے ساتھ مل کر پہلے 5 اضلاع میں پولیس کو مضبوط کرنے، ایف سی اور فوج کو بتدریج نکالنے اور تمام درکار فنڈز فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا مگر چار ماہ گزرنے کے باوجود اس پر صوبائی سطح پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ وفاق اور صوبے کی خارجہ پالیسی مختلف نہیں ہو سکتی اور طالبان سے تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اور شہادتوں میں 113 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پولیس کو دیئے گئے 20 ارب کے بجٹ پر احسان جتایا جاتا ہے اور دہشت گرد کی تعریف پر بحث کی جاتی ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ اگر روزانہ جوانوں کی شہادتیں ہی کروانی تھیں اور صوبائی حکومت نے اونرشپ نہیں لینی تھی تو وفاق کے پاس ریاست کو بچانے کے لیے اس فیصلے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد میڈیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کابینہ کے دو گھنٹے طویل اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے موصولہ خط پر غور کیا گیا، جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ صوبے میں آئینی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے اور حکومت کی رٹ غائب ہے۔ رپورٹڈ واقعات کے مطابق دہشت گردی میں 196 فیصد اضافہ ہوا اور سڈنی کی عالمی تنظیم نے پاکستان کو دہشت گردی سے بدترین متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست رکھ دیا ہے، جس سے معیشت اور سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگ رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 149(4) وفاق کو امن و امان سے متعلق صوبوں کو احکامات دینے کا اختیار دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت سنگین اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیشِ نظر صدرِ مملکت نے ہنگامی اختیارات استعمال کیے۔ اعظم نذیر تارڑ نے احکامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صدارتی پروکلیمیشن کے تحت خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت غیر فعال ہو گئی ہے اور وزیر اعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈوکیٹ جنرل کے اختیارات ختم کر کے تمام اختیارات گورنر کے پی کے سپرد کر دیے گئے ہیں جن کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی جائے گی۔ شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے گورنر اور چیف سیکرٹری کے تحت ایک علیحدہ خصوصی سیکرٹریٹ اور ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (ARDC) قائم کر دی گئی ہے جس کا ایڈمنسٹریٹر ایڈیشنل چیف سیکرٹری رینک کا افسر ہوگا۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سکیورٹی فورسز کی ازسرنو مؤثر تعیناتی کا فریش حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس صدارتی فیصلے کی آئینی توثیق کروائی جائے گی۔

### محسن نقوی: وفاق نے ایک ماہ سے زائد مذاکرات کی کوشش کی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ وفاقی حکومت ایک ماہ سے زائد عرصے تک صوبائی حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کی کوشش کرتی رہی، تاہم ان کے بقول مذاکرات کے باوجود اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل بھی ملاقاتوں اور علاج سمیت مختلف مطالبات پر پیش رفت کی گئی تھی۔ بعد ازاں صدر اور وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں سے مذاکرات ہوئے، جن میں اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کو اس عمل میں شامل کرنے کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔

محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے دوران تین سے چار مرتبہ مسودہ حتمی شکل اختیار کر گیا اور پی ٹی آئی کی تجاویز بھی شامل کی گئیں، لیکن ہر مرتبہ صوبائی حکومت کی جانب سے نیا مؤقف سامنے آنے کے باعث پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ رات پونے 12 بجے تک رابطے جاری رکھے گئے تاکہ کوئی درمیانی راستہ نکل سکے، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن کی وزیراعظم اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وفاق کو دھرنے یا لانگ مارچ پر اعتراض نہیں تھا بلکہ بنیادی مسئلہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کا تھا۔

### 12 اضلاع میں سکیورٹی صورتحال تشویشناک قرار

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں سکیورٹی صورتحال انتہائی خراب ہے اور بعض علاقوں میں شہری شام کے بعد گھروں سے نکلنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر کو شہید کیا گیا، پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کسٹمز اور سکیورٹی فورسز پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ابتدائی طور پر پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط بنانے، فرنٹیئر کور اور فوج کی مرحلہ وار واپسی اور مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ان کے بقول چار ماہ گزرنے کے باوجود صوبائی سطح پر اس منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اور شہادتوں میں 113 فیصد اضافے کے اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اور مؤثر عملی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

### اعظم نذیر تارڑ کی آئینی و قانونی وضاحت

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس میں ایمرجنسی کے آئینی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ان کے مطابق گورنر نے اپنی رپورٹ میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی اور حکومتی رٹ متاثر ہونے کی نشاندہی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 149(4) وفاق کو صوبوں میں امن و امان سے متعلق ہدایات دینے کا اختیار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 232 اور 234 سنگین حالات میں ہنگامی آئینی اقدامات سے متعلق ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ کے مطابق صدارتی پروکلیمیشن کے تحت وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل کے اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، جبکہ انتظامی اختیارات گورنر خیبرپختونخوا کو منتقل کیے گئے ہیں۔ ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی کے لحاظ سے شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت خصوصی سیکریٹریٹ اور ایڈمنسٹریٹو ری کنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (ARDC) قائم کی گئی ہے۔ اس انتظامی ڈھانچے کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے رینک کا افسر کرے گا۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سکیورٹی فورسز کی مؤثر تعیناتی کے لیے بھی نیا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد امن و امان کی بحالی اور سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانا ہے۔

### پارلیمنٹ سے توثیق کا اعلان

وفاقی وزراء نے کہا کہ صدارتی فیصلے کی آئینی توثیق کے لیے مقررہ مدت کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، شہریوں کے تحفظ اور انتظامی نظام کی بحالی کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں