خیبرپختونخوا میں بدامنی کا راج، بنوں یونیورسٹی سے 700 سے زائد طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوئیں، ثمر ہارون بلور

خیبرپختونخوا میں بدامنی کا راج، بنوں یونیورسٹی سے 700 سے زائد طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوئیں، ثمر ہارون بلور

اسلام آباد: خیبرپختونخوا کی مشاورتی کونسل کی رکن برائے اطلاعات و نشریات ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی نے تعلیمی و سماجی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت عوام کی مشکلات اور شہداء کے خاندانوں کی داد رسی میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ پانچ سے چھ ماہ کے دوران بنوں یونیورسٹی سے 700 سے زائد طالبات غیر محفوظ راستوں اور دہشت گردوں کے اثر و رسوخ کے باعث تعلیم چھوڑ کر گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہوئیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے جنوبی خیبرپختونخوا، بالخصوص لکی مروت، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے سے روزانہ خوف اور پریشانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور بچے سکیورٹی خدشات کے باعث تعلیمی اداروں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقل مکانی سمیت بے پناہ مشکلات برداشت کیں اور عظیم قربانیاں دیں، لیکن ان قربانیوں کے باوجود عوام کی تکالیف اور شہداء کے خاندانوں کے مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے پختون روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پختون ثقافت میں دشمن کے گھر جا کر بھی تعزیت اور غم میں شرکت کی جاتی ہے، مگر ان کے بقول موجودہ حکمران شہداء کے جنازوں میں شرکت کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز مہم چلاتے ہیں۔

ثمر بلور نے واضح کیا کہ پاک فوج، پولیس یا کسٹمز کا کوئی اہلکار خیبرپختونخوا کی سرزمین پر شہید ہوتا ہے تو وہ ان کا بھی شہید ہے، کیونکہ وہ عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ شہداء کے پسماندگان، بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کرے، تاہم صوبائی سطح پر اس ذمہ داری کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

صوبے میں تعلیمی اور ترقیاتی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی سے ترقی کا پہیہ رکا ہوا ہے اور تعلیمی اداروں میں اب بھی 2013 کا فرسودہ نصاب پڑھائے جانے کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق مسلسل بدامنی کے باعث نہ معاشی خوشحالی ممکن ہو سکی اور نہ ہی عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں مشاورتی کونسل کا پلیٹ فارم کسی ذاتی عہدے، تنخواہ یا مراعات کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت قبول کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جب صوبے کے عوام خود کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا محسوس کر رہے تھے تو وفاق کی جانب سے تعاون اور خیرسگالی کا ہاتھ بڑھانا اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ کمزور اور محروم طبقات، شہداء کے خاندانوں اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گی اور ان کی مشکلات کے حل کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھیں گی، تاکہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم ہو اور صوبہ بھی ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ترقی کی رفتار میں آگے بڑھ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں