سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا افتتاح، مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت ملے گی، مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ بھی متعارف

سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا افتتاح، مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت ملے گی، مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ بھی متعارف

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کی سروس کا باضابطہ افتتاح کردیا، جس کے ذریعے شہریوں کو مفت قانونی رہنمائی، مقدمات کی صورتحال اور عدالتی طریقۂ کار سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے سپریم کورٹ، لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور پاکستان بار کونسل سمیت متعلقہ بار کونسلز کے درمیان مربوط نظام وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ کے ذریعے عدالتی خدمات تک ڈیجیٹل رسائی کو مزید آسان بنانے کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔

1818 لیگل کال سینٹر کی افتتاحی تقریب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جہاں پہلے کالر محمد سلیم کی کال کے ذریعے سروس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ تقریب میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سمیت سپریم کورٹ کے ججز، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون الرشید، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر محمد مسعود چشتی، پاکستان بار کونسل کی لیگل ایڈ کمیٹی کے چیئرمین طاہر نصراللہ اور دیگر بار نمائندگان نے شرکت کی۔

گھر بیٹھے مفت قانونی رہنمائی کی سہولت

1818 لیگل کال سینٹر کے ذریعے وکلاء، سائلین اور عام شہری سپریم کورٹ کے مقدمات، عدالتی کارروائی اور مختلف قانونی امور سے متعلق رہنمائی حاصل کرسکیں گے۔ شہریوں کو مقدمات کی موجودہ صورتحال، سماعت کی تاریخوں، کاز لسٹ، مقدمات مقرر ہونے، درخواستوں کے اندراج اور عدالتی طریقۂ کار سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔

کال سینٹر کے ذریعے فائلنگ اعتراضات دور کرنے، عدالتی فیصلوں اور احکامات کی مصدقہ نقول حاصل کرنے، جلد سماعت کی درخواستیں دائر کرنے اور زیرِ التوا مقدمات سے متعلق معلومات کے حصول کے طریقۂ کار پر بھی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ، آن لائن کیس معلومات، الیکٹرانک درخواستوں اور عوامی سہولت مرکز کی خدمات استعمال کرنے میں بھی معاونت کی جائے گی۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے مطابق شہری گھر بیٹھے 1818 پر رابطہ کرکے مفت قانونی رہنمائی حاصل کرسکیں گے اور انہیں ابتدائی قانونی مشورے کے لیے عدالت آنے یا مشاورتی اخراجات برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سہولت کا بنیادی مقصد بالخصوص مالی مشکلات کا شکار اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے قانونی معلومات اور معاونت تک رسائی آسان بنانا ہے۔

مستحق سائلین کے لیے مفت قانونی معاونت کا مربوط نظام

چیف جسٹس آف پاکستان اور بار نمائندگان کے درمیان مشاورتی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 1818 کال سینٹر کے ذریعے ابتدائی قانونی مشورے کے ساتھ مفت قانونی معاونت کے خواہشمند مستحق شہریوں کی درخواستیں بھی وصول کی جائیں گی۔

طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق کال سینٹر میں موجود ماہر قانونی مشیر شہریوں کو ان کے قانونی مسائل کی نوعیت اور دستیاب قانونی راستوں سے آگاہ کرے گا۔ مزید قانونی معاونت کے خواہشمند افراد کے نام اور مقدمات کی تفصیلات درج کرکے درخواستیں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو ارسال کی جائیں گی۔

اس مقصد کے لیے لا اینڈ جسٹس کمیشن میں ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے گا، جو 1818 کال سینٹر اور پاکستان بار کونسل یا متعلقہ صوبائی بار کونسلز کے درمیان رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ کمیشن درخواستیں متعلقہ بار کونسل کو غور کے لیے بھجوائے گا، جہاں درخواست گزار کی مفت قانونی معاونت کے لیے اہلیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

مفت قانونی معاونت کی درخواست موصول ہونے کے سات روز کے اندر متعلقہ بار کونسل اہلیت سے متعلق فیصلہ کرے گی اور درخواست گزار کو اس فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔ اہل قرار پانے والے افراد کو متعلقہ بار کونسل کے قانونی امداد کے نظام کے تحت مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اس نظام کا مقصد مالی وسائل سے محروم افراد کو بروقت قانونی مدد فراہم کرنا، درخواستوں پر کارروائی کے لیے واضح طریقۂ کار وضع کرنا اور قانونی معاونت کے مختلف اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو یقینی بنانا ہے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ متعارف

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا دورہ بھی کیا، جہاں بار نمائندگان کے ساتھ مشاورتی نشست میں عدالتی اصلاحات، ڈیجیٹل جدت، کیس مینجمنٹ اور سائلین کو سہولیات کی فراہمی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر سپریم کورٹ انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ کے بارے میں بریفنگ دی۔ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم وکلاء، سائلین اور عام شہریوں کو چوبیس گھنٹے عدالتی معلومات اور مختلف آن لائن خدمات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ پر عام فہم زبان میں سوالات کرکے مقدمات کی تلاش، سماعت کی تاریخوں، کاز لسٹ، ججز کے عدالتی روسٹرز اور وکلاء سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔ اس کے علاوہ مصدقہ نقول کی درخواستوں، جلد سماعت کی درخواستوں، ویڈیو لنک سہولیات اور سماعت ملتوی ہونے سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہوں گی۔

اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ کی سہولت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے:
https://sja.scp.gov.pk/

سپریم کورٹ انتظامیہ کی جانب سے آن لائن عدالتی خدمات کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے معلوماتی ویڈیو گائیڈز بھی تیار کی گئی ہیں، جن کا عملی مظاہرہ بار نمائندگان کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد شہریوں اور وکلاء کے وقت اور اخراجات میں کمی لانا اور غیر ضروری عدالتی دوروں سے بچانا ہے۔

چیف جسٹس کی مقدمات کی سماعت اور جیل پٹیشنز سے متعلق وضاحت

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے مقدمات کے فیصلوں اور زیرِ التوا مقدمات میں کمی کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2026 کے دوران ٹیکس کے 395 مقدمات کی سماعت کی گئی۔

جیل پٹیشنز کی سماعت کے لیے مقدمات مقرر کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق بار نمائندگان کے تحفظات پر وضاحت دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جیل پٹیشنز دائر ہونے کی ترتیب کے مطابق سماعت کے لیے مقرر کی جاتی ہیں اور پہلے دائر ہونے والی درخواستوں کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم متعلقہ عدالتی ریکارڈ کی دستیابی ضروری ہے۔

ان کے مطابق جن پرانی جیل پٹیشنز کا مطلوبہ ریکارڈ موصول نہیں ہوا، انہیں ریکارڈ کی دستیابی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ اس طریقۂ کار کا مقصد انصاف، یکسانیت اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ جلد سماعت کی 192 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، جنہیں دوپہر ایک بجے کے بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔ ان درخواستوں کے مقرر ہونے کے بعد اب دوپہر کے بینچ کے سامنے نئے مقدمات مقرر کیے جائیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری دینا رجسٹرار سپریم کورٹ کا اختیار ہے اور ایسی درخواستوں میں ٹھوس اور قابلِ جواز وجوہات پیش کرنا ضروری ہے۔

بینچ اور بار کے درمیان مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق

مشاورتی نشست میں بار نمائندگان نے عدالتی انتظام، مقدمات مقرر کرنے کے طریقۂ کار اور سائلین کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ چیف جسٹس اور بار نمائندگان نے عدالتی خدمات میں بہتری کے لیے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل مشاورت اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے متعارف کرائے گئے 1818 لیگل کال سینٹر، مفت قانونی معاونت کے مربوط نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ جوڈیشل اسسٹنٹ کو انصاف تک رسائی آسان بنانے، عدالتی معلومات کی فراہمی بہتر کرنے اور مالی مشکلات سے دوچار شہریوں کی معاونت کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

ان سہولیات کے ذریعے شہریوں کو قانونی معلومات اور ابتدائی رہنمائی فراہم کی جاسکے گی، جبکہ مقدمات کے فیصلے اور عدالتی احکامات جاری کرنے کا اختیار متعلقہ عدالتوں کے پاس ہی رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں