پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد کی سڑکوں پر فیصلہ ہوگا، حافظ نعیم الرحمن

پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد کی سڑکوں پر فیصلہ ہوگا، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر وفاقی وزراء کی جانب سے پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کے بیانات جاری رہے تو وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات نہیں کریں گے، بلکہ عوام اسلام آباد پہنچ کر اپنے مطالبات منوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر تک اعلان کردیا جائے گا کہ جماعت اسلامی وفاقی دارالحکومت کب پہنچے گی، جبکہ نوجوان بڑی کشمکش کے لیے تیار رہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے ان خیالات کا اظہار چارسدہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ ہے اور حکومت کو چاہیے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے سود کی شرح میں کمی کرکے قومی خزانے کو فائدہ پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی گزشتہ تین ماہ سے ملک کے 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے تحریک چلا رہی ہے اور عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں آٹا مہنگا ہے، کسان پریشان ہیں، یوریا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ شوگر مل مافیا پہلے چینی برآمد کرکے اور پھر درآمد کے ذریعے منافع کماتا ہے۔ ان کے بقول آٹا، چینی، آئی پی پیز اور لینڈ مافیا سیاسی جماعتوں کے اخراجات چلاتے ہیں، جبکہ عوام مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس وصول کرتی ہے، لیکن عوام کو اس کے بدلے معیاری تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں کی آڑ میں عوام کو لوٹا جا رہا ہے اور چند لوگوں کی عیاشیوں کا بوجھ کروڑوں شہری اٹھا رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے خیبرپختونخوا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان کشمکش جاری ہے، جبکہ عوام کو ان کے حقوق نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاگیرداروں، وڈیروں، خاندانوں اور شخصیات پر مشتمل سیاسی نظام کئی دہائیوں سے عوام کا استحصال کر رہا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوام کو متحد کریں اور نوجوانوں کو ملک میں تبدیلی کے لیے جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار کریں۔

بنو قابل پروگرام نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے پشاور پریس کلب میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام بنو قابل گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبے میں تربیت فراہم کرنا پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے پشاور پریس کلب کی انتظامیہ کو تعمیری پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صحافت میں پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی تربیت ناگزیر ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے پشاور پریس کلب میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ڈیجیٹل جرنلزم کورس شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق پشاور پریس کلب کو ڈیجیٹل جرنلزم کی تربیت کے حوالے سے ایک ماڈل ادارہ بننا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ بنو قابل پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 100 فیصد مفت آئی ٹی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اور اس پروگرام سے 16 سے 17 لاکھ نوجوان منسلک ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق چترال سے وزیرستان تک اس پروگرام کے کیمپس قائم ہیں، جبکہ جماعت اسلامی اس پروگرام کو مزید وسعت دینے اور غزہ تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن تعلیم، صحت اور ریلیف کے شعبوں میں سرگرم ہے اور غزہ کے متاثرین کی مدد کے لیے 10 ارب روپے سے زائد فراہم کرچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے طلبہ کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس پر تعلیم دی جا رہی ہے۔

ملک بھر میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم بنیادی حق ہے

حافظ نعیم الرحمن نے تعلیم کے شعبے میں درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم خیرات نہیں بلکہ عوام کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر بچے کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 50 لاکھ سے زائد، پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ، سندھ میں 78 لاکھ جبکہ بلوچستان میں 24 سے 25 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق ملک بھر میں تقریباً پونے تین کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی نظام میں طبقاتی تقسیم ختم کرکے تمام بچوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں معیاری تعلیم کے حق کے لیے تحریک چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ٹیکس وصول کرتی ہے تو اسے شہریوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کرنی چاہییں۔

زی کنیکٹ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم

حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے نوجوانوں کی ترقی کے لیے زی کنیکٹ پروگرام شروع کیا ہے، جس میں آئی ٹی، فنی مہارت، کھیل، کاروبار اور اخلاقی تربیت کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پروگرام کے ذریعے خواتین اور نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے میں معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ ضرورت مند نوجوانوں کے لیے مائیکروفنانسنگ کی سہولت بھی متعارف کرائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بنو قابل سے فارغ التحصیل طلبہ مزید کورسز بھی مفت کرسکتے ہیں، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن آئی ٹی تعلیم کے بعد ڈگری پروگراموں اور یونیورسٹی کے قیام کی جانب بھی پیش رفت کر رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشاور پریس کلب کے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے باوجود صحافیوں نے جرات کے ساتھ امن اور عوام کا مقدمہ لڑا ہے۔ انہوں نے بنو قابل پروگرام کو نوجوانوں کے لیے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے شعبے میں نوجوانوں کی تربیت پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محنت، جدید مہارتوں اور اخلاقی اقدار کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور ملک میں مثبت تبدیلی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں