گورنر خیبر پختونخوا کا صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی نہ ہونے کا الزام، وزیراعلیٰ کو صوابی جا کر دکھانے کا چیلنج

گورنر خیبر پختونخوا کا صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی نہ ہونے کا الزام، وزیراعلیٰ کو صوابی جا کر دکھانے کا چیلنج

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی نہ رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف افغانستان اور دہشت گردوں کے خلاف ایک بیان تک نہیں دیتی، جبکہ عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح بیان جاری کرے۔ ان کے بقول دہشت گردوں کو دوبارہ یہاں آباد کرنے کی ذمہ داری بھی انہی لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ہونے والی صورت حال پر بھی تحریک انصاف خاموش ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ جس راستے سے وزیراعلیٰ کا مارچ گزر رہا ہے، وہاں حملے ہو رہے ہیں، اس لیے اسلام آباد جانے والے قافلے کی پولیس کو تلاشی لینی چاہیے۔ انہوں نے افغانستان کو بھارت اور اسرائیل کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کی جانب سے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری سے یہ پوچھنے کے معاملے پر بھی ردعمل دیا کہ گورنر نے انہیں کس حیثیت سے بلایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دونوں افسران کو اسی حیثیت میں بلایا تھا جس حیثیت میں وزیراعلیٰ گندم اور سی این جی بحران کے معاملات پر ان کے پاس آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب چاہیں گے، آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو طلب کریں گے۔

گورنر نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن جو حکومت اپنے اراکین اسمبلی اور وزرا کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، وہ عوام کو کیا تحفظ دے گی۔ اگر صوبائی حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو کابینہ کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ کے مارچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ لوگ صوابی جائیں گے۔ ان کے بقول صوابی جاتے ہوئے ان کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو چیلنج کیا کہ شہر شہر گھومنے کے بجائے صوابی جا کر دکھائیں اور صوابی کراس کریں۔

فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت نااہل اور نالائق لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیسٹ میچ کا دور نہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی کا دور ہے، جبکہ ان لوگوں پر میچ فکسنگ اور بال ٹیمپرنگ کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا نے مزید الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کے پاس اپنے اختیارات نہیں اور وہ مراد سعید کے اشاروں پر چلتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں