صوابی: دو بہنوں کے اغوا، حبسِ بے جا اور نازیبا ویڈیوز بنانے کے الزام میں پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج
متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں ایف آئی آر درج، ایک بہن فرار ہو کر گھر پہنچ گئی، دوسری تاحال مبینہ طور پر اہلکار کے قبضے میں ہے
صوابی: خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں دو بہنوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے حبسِ بے جا میں رکھنے، نازیبا ویڈیوز بنانے، دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے الزام میں پولیس چوکی کھنڈہ کے انچارج نصیب جان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تھانہ زیدہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق مدعیہ اپنی بہن کے ہمراہ 11 جون 2026 کو گھر سے ناراض ہو کر اسلام آباد جانے کے لیے نکلی تھیں۔ الزام ہے کہ کھنڈہ چوکی کے قریب پولیس اہلکار نصیب جان نے دونوں بہنوں کو زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور شاہ منصور لے گیا، جہاں انہیں ایک بنگلے میں تقریباً ایک ماہ تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔
ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ نامزد اہلکار نے دونوں بہنوں کی نازیبا ویڈیوز بنائیں اور انہیں دھمکانے کے ساتھ بلیک میل بھی کرتا رہا۔ بعد ازاں دونوں بہنوں کو اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق 2 اکتوبر 2026 کو مدعیہ موقع ملنے پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور گھر پہنچ کر اہل خانہ کو مبینہ واقعے سے آگاہ کیا، تاہم اس کی بہن تاحال نامزد پولیس اہلکار کے قبضے میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے باوجود آخری اطلاعات تک نامزد پولیس اہلکار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
نوٹ: مقدمے میں عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق اور نامزد اہلکار کا مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔