پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد روانہ، حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ٹرین مارچ کا آغاز

پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد روانہ، حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ٹرین مارچ کا آغاز

کراچی سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ ٹرین کے ذریعے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے مارچ کی قیادت کی اور خود بھی اکانومی کلاس میں سفر کر رہے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت اور کارکن بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

روانگی کے موقع پر کراچی کینٹ، ڈرگ روڈ اور لانڈھی ریلوے اسٹیشنز پر کارکنوں کی بڑی تعداد نے حافظ نعیم الرحمن کو رخصت کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کسمپرسی کا شکار ہیں جبکہ حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں، اسی صورتحال کے خلاف جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ مارچ جماعت اسلامی یا کسی فرد کی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی، جبکہ اشرافیہ کے اخراجات میں کمی، سرکاری گاڑیوں کے حجم میں کمی اور بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے معاہدوں میں اصلاحات سمیت دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی مارکیٹ کا حوالہ دے کر عوام پر قیمتوں کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ اگر عوام خاموش رہیں گے تو حکمران مزید بوجھ ڈالتے رہیں گے، اسی لیے جماعت اسلامی نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 35 روز دھرنا دیا گیا جبکہ سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد سمیت مختلف علاقوں میں احتجاج اور دھرنے جاری ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوگا، حکومت کو ’’نوشتہ دیوار‘‘ پڑھ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی کی انا کا مسئلہ نہیں، حکومت عوام کو ریلیف دے اور لیوی ختم کرے۔

جماعت اسلامی کے مطابق خیبرپختونخوا کے باب خیبر اور بلوچستان سے بھی قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے، جبکہ سندھ کے مختلف ریلوے اسٹیشنز پر جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ کی قیادت میں کارکن ٹرین مارچ کا استقبال کریں گے۔

دوسری جانب لاہور میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی زیرصدارت سپر لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں، تاہم حکومتی کمیٹی کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کرسکی۔

لیاقت بلوچ کے مطابق جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کو جامع تجاویز دی ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے عملدرآمد کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ریلیف پیکج کے بغیر مزید مذاکرات بے معنی اور وقت کا ضیاع ہیں۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کو براہ راست مذاکراتی عمل میں شامل ہونا ہوگا اور عوامی مشکلات کے خاتمے کے لیے ایک بڑا اور جامع ریلیف پیکج پیش کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی محض یقین دہانیوں یا عارضی ریلیف پر اکتفا نہیں کرے گی اور عوام کے مطالبات پر واضح اور عملی اقدامات چاہتی ہے۔

ادھر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی عوام پر اضافی بوجھ ہے اور حکومت کو یہ ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پٹرول کی قیمت میں لیوی کی مد میں بڑی رقم وصول کی جارہی ہے اور حکمرانوں کو شاہ خرچیاں، مفت بجلی اور مفت پٹرول سمیت مراعات ختم کرنا ہوں گی۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی سے روانہ ہونے والا کارواں حیدرآباد، روہڑی اور سکھر پہنچے گا، جہاں سکھر میں جلسہ بھی ہوگا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی رکاوٹوں کے باوجود اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کرے گی اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ سپر لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں