خیبرپختونخوا اسمبلی میں آؤٹ سورسنگ، مبینہ کرپشن اور سرکاری سکولوں کی بے ضابطگیوں پر شدید بحث
پشاور میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران ارکان اسمبلی نے سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ، پی ٹی سی فنڈز میں مبینہ خرد برد، اساتذہ کی مبینہ غیرحاضری اور ترقیاتی فنڈز سے متعلق الزامات پر تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
ایم پی اے داؤد جان نے کہا کہ ان کے حلقے میں تمام بنیادی سہولیات موجود ہونے کے باوجود سکولوں کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آؤٹ سورس سکولوں میں اساتذہ کو صرف 15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، لہٰذا اس معاملے کی تحقیقات کرکے اسے متعلقہ کمیٹی میں زیر بحث لایا جائے۔
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی آصف محسود نے نام لیے بغیر ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے اپنے خلاف تین ارب روپے کی کرپشن کے الزام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی وساطت سے وزیرستان کو کوئی رقم ملی ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور خصوصی کمیٹی میں جائزہ لیا جائے کہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔ مسند نشین انور خان نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ سپیکر اس معاملے کو دیکھیں گے۔
حکومتی رکن گل ابراہیم خان نے سرکاری سکولوں کے پی ٹی سی فنڈ میں مبینہ خرد برد اور بعض اساتذہ کی غیرحاضری کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاتراک کے بعض سرکاری سکولوں کے اساتذہ ڈیوٹی پر نہیں جاتے بلکہ مبینہ طور پر اپنی جگہ دیگر افراد کو 25 ہزار روپے ماہانہ پر کام کے لیے رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب ایم پی اے عبید الرحمٰن نے سیاسی بیانات اور اخلاقیات کے معاملے پر ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی اور قیام پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور صوبے کے بارے میں نامناسب بیانات قابل افسوس ہیں۔
عبید الرحمٰن نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔