جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ

جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ

اسلام آباد: جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دو روز سے احتجاج اور دھرنا جاری ہے، تاہم اسی دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 27 پیسے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 395 روپے 69 پیسے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت 334 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کررہی ہے اور احتجاج کے باوجود حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔

پٹرول کی قیمت کم نہ ہوئی تو کل پشاور میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی تاریخ دوں گا، حافظ نعیم الرحمن

حکومت نے ڈھٹائی نہ چھوڑی تو پہیہ جام ، اسلام آباد کی جانب مارچ بھی ہوگا ،

پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا دھرنے کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا خطاب

لاہور: 18 اگست 2026ء
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کی تو کل پشاور دھرنے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تاریخ کا اعلان کروں گا، اس کے بعد پہیہ جام بھی ہوگا اور دھرنوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع بھی کیا جائے گا، فارم سنتالیس کے حکمرانوں کی ڈھٹائی جاری رہی تو اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ کریں گے ، اقتدار پر براجمان اشرافیہ جان لے کہ مظلوم عوام بپھر گئے تو ظالموں کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیں گے۔
پٹرولیم لیوی کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی غریب عوام پر بھتہ ٹیکس ہے، حکومت فوری طور پر اسے ختم کرے، پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر تک لائے اور بجلی سستی کرے، بصورت دیگر جماعت اسلامی کی ملک گیر مزاحمت حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
نائب امراء لیاقت بلوچ، ڈاکٹر اسامہ رضی ، ڈپٹی سیکرٹری رسل خان بابر، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ صاحبزادہ وسیم حیدر و دیگر قائدین نے بھی دھرنا سے خطاب کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور دھرنا کے تیسرے روز خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی احتجاج میں شریک ہوئی۔ لیاقت بلوچ نے خواتین سیشن سے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں شاہ محمود قریشی ، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری ، محمود الرشید اور عمرسرفراز چیمہ کی جانب سے دھرنا کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا. حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہی حقیقی پی ٹی آئی ہے، وہ نہیں جو ملک سے باہر بھاگ چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جماعت اسلامی کے گزشتہ دھرنے کی حمایت بھی بانی پی ٹی آئی نے جیل سے کی تھی۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے سیاسی کارکنوں کو عوامی احتجاج میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور، پشاور اور کراچی میں جماعت اسلامی کے دھرنوں میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کے خلاف عوام میں شدید بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ جماعت اسلامی ایک تاریخی جدوجہد کر رہی ہے اور اس کے دھرنوں سے حکومت میں ہلچل مچ چکی ہے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے کو ابھی تین دن ہوئے ہیں، لیکن اس نے حکمرانوں کو پریشان کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ مزاحمت مزید تیز ہوگی اور حکمرانوں کے درمیان تقسیم پیدا ہوگی۔ جماعت اسلامی کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے حقوق کے لیے میدان میں نکلی ہے اور یہ دھرنا جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دو سال قبل ملک میں آئی پی پیز کے ظلم کو بے نقاب کیا اور دلیل کے ساتھ قوم کو بتایا کہ کس طرح بجلی پیدا کیے بغیر بھی آئی پی پیز کو اربوں روپے کی کیپسٹی پیمنٹس دی جا رہی ہیں۔ مرحوم امیرالعظیم اور لیاقت بلوچ نے بھی پوری قوت کے ساتھ عوام کا مقدمہ لڑا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس وقت یقین دہانی کرائی تھی کہ آئی پی پیز سے بات کی جائے گی۔ جماعت اسلامی نے 14 روز کا دھرنا دیا، جس کے بعد حکومت کو مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا۔ بعدازاں پورے پاکستان میں شٹر ڈاؤن کیا گیا تو 27 میں سے پانچ آئی پی پیز کو بند کیا گیا اور آج پاکستان میں جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں بجلی کچھ سستی ہوئی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر حکومت 27 آئی پی پیز سے بات کر سکتی ہے تو باقی 73 آئی پی پیز سے بات کیوں نہیں کی جا سکتی؟ ناجائز معاہدے ختم کیے جائیں اور بجلی سستی کی جائے۔ جماعت اسلامی آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹ کے خلاف ہے اور حکومت کو عوام کے مفاد میں ان معاہدوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ آئی پی پیز سے بات کرنے میں حکومتی وزرا بین الاقوامی قوتوں کے خوف کا شکار رہے، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ اگر حکومت آئی پی پیز سے بات نہیں کرے گی تو دھرنا جاری رہے گا۔ حکومت کو بالآخر ایک کمیٹی بنانا پڑی، مگر عوام کو اب محض کمیٹیوں اور وعدوں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی غریب آدمی پر بوجھ ہے۔ جن لوگوں پر ٹیکس واجب ہی نہیں، ان پر بھی حکومت نے مختلف ٹیکس عائد کر رکھے ہیں۔ 1961 کے قانون کے تحت عائد پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا مقصد ریفائنریز کو بہتر بنانا تھا، مگر حکمران اب تک اس مد میں عوام سے تقریباً 8 ہزار ارب روپے وصول کر چکے ہیں۔ رواں سال بھی حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں اپنے مقررہ اہداف سے زیادہ رقم وصول کی ہے۔ حکمران پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں کے ذریعے بھی عوام سے ایک ہزار ارب روپے جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ تنخواہ دار طبقے سے 1200 ارب روپے وصول کیے گئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود 1700 ارب روپے ادا کیے گئے، اتنے بڑے پیمانے پر رقم لینے کے باوجود ان میں سے کئی ادارے مناسب ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے اسے ایک مافیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عوام کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی جانب سے مسائل اور پریشانیاں بتانے کے لیے کمیٹی قائم کرنے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے آپ کی پریشانی کیا ہے، کیونکہ آپ جانے والے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکمران اب اپنے سرپرستوں کے منظور نظر نہیں رہے؟
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی عوام کے حق کے لیے نکلی ہے اور پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے وصول کیا جانے والا بھتہ ٹیکس کسی صورت منظور نہیں۔ انہوں نے کسانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو گنے کی مناسب قیمت نہیں ملتی جبکہ دوسری طرف حکومت چینی درآمد کرنے کی بات کرتی ہے۔ ہر نظام میں مخصوص مافیا موجود ہوتے ہیں اور موجودہ حکمران طبقہ عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اب نظام چلانے والے بھی اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صرف شاخوں کو کاٹنے یا جھاڑنے سے نظام صاف نہیں ہوگا، اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ پاکستان میں آج بھی انگریزوں کا بنایا ہوا بیوروکریسی کا نظام چل رہا ہے، جہاں بیوروکریٹس خود کو آقا اور عوام کو غلام سمجھتے ہیں۔ بڑی گاڑی سے اتر کر غریب کا ٹھیلا الٹ دیا جاتا ہے، لیکن اشرافیہ سے کوئی سوال نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے غلام پاکستان میں عدل و انصاف کا نظام نہیں لا سکتے۔ ریاست جاگیرداروں، وڈیروں اور نام نہاد سیاست دانوں کا نام نہیں، بلکہ عوام ریاست کے اصل مالک ہیں۔ لوگوں کو حق حاکمیت دیا جائے تو پوری قوم متحد ہو سکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان محض جغرافیے کا نام نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے کا نام ہے۔ یہ ملک کلمہ طیبہ کے نام پر بنا اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے حاصل کیا گیا تھا، لیکن وڈیروں اور انگریزوں کے غلاموں نے اسے حقیقی معنوں میں پاکستان نہیں بننے دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم خریدنے اور فروخت کرنے کی چیز نہیں ہونی چاہیے۔ اسلامی نظام میں کسی انسان کو طبقوں میں تقسیم نہیں کیا جاتا اور اسلام دور جدید کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ اکبر کہنے والوں پر زمینی خدا حکمرانی نہیں کر سکتے۔ ہم زمینی خداؤں کو نہیں مانتے اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو جوڑنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم ایک دوسرے کی اصلاح کریں گے اور اس مزاحمت کو عبادت سمجھ کر جاری رکھیں گے۔ جماعت اسلامی ایک نظریاتی اور اقامت دین کی تحریک ہے۔ دین محض مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے، اس لیے ظلم کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ عوام کو کنفیوز (Confuse) کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے اور ایسے عناصر کو جماعت میں کوئی ذمہ داری نہ دی جائے۔ جماعت اسلامی کے نظم و ضبط سے حکمران پریشان ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ منظم عوامی قوت ان کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 7 اگست کو ملک بھر میں عوام کے نکلنے سے حکمرانوں کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بلوچستان میں بدترین حالات کے باوجود 20 سڑکیں بند کی گئیں جبکہ اندرون سندھ کے لوگوں نے بھی سڑکیں بند کرنے کا ٹاسک (Task) پورا کیا۔ کراچی میں گورنر ہاؤس کے سامنے ہزاروں افراد موجود ہیں جبکہ لاہور اور پشاور میں بھی عوام بڑی تعداد میں دھرنوں میں شریک ہیں۔ جماعت اسلامی کی لڑائی مسلم لیگ ن یا کسی بھی پارٹی کے کارکنوں سے نہیں بلکہ حکمران خاندانوں کے سیاسی طرز عمل سے ہے۔
انہوں نے بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تین سال پہلے وہاں جماعت اسلامی کے خلاف بہت باتیں کی جاتی تھیں، لیکن جب اسلامی جمعیت طلبہ کے اور دیگر نوجوان میدان میں نکلے اور قیادت سنبھالی تو جماعت اسلامی نے ریکارڈ ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے کراچی کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پہلے حلقہ بندیاں کرائیں اور پھر قبضے شروع کیے۔ ملک میں شفاف انتخابات کرا دیے جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فی الحال جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ پٹرول کی قیمت کم کرو، پٹرولیم لیوی ختم کرو، آئی پی پیز سے بات کرو، بجلی سستی کرو اور روٹی کی قیمت کم کرو۔ انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دو، ورنہ کرسی چھوڑ دو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جماعت اسلامی کو روکنے کی کوشش کی تو یہ تحریک حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہو جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں کو سمجھنا چاہیے کہ جماعت اسلامی کے کارکن چند دن کے لیے نہیں نکلے۔ جب عوام کے بنیادی حقوق کی بات ہو تو جماعت اسلامی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر حکمران یہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو انہیں اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔
مزید برآں کراچی اور پشاور کے گورنر ہائوسز کے باہر بھی دھرنے کے تیسرے روز شرکا کا جوش و خروش برقرار رہا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف اور مطالبات کے حق میں بھرپور نعرے بازی کی۔ کراچی دھرنا سے امیر کراچی منعم ظفر اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ پشاور دھرنا سے امیر صوبہ کے پی وسطی عبدالواسع اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی بھی قافلے کی صورت میں پشاور پہنچے اور دھرنے میں شریک ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں