فہمینہ چوہدری قتل کیس: کہانی کا وہ حصہ جو ایکس پوسٹ میں غائب ہے
اسلام آباد: فہمینہ چوہدری قتل کیس کی کہانی دوبارہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ ایکس پر اسرار احمد راجپوت کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں 2013 کے اس ہائی پروفائل کیس کی پولیس تفتیش، ملزم کی گرفتاری، لاش کی برآمدگی اور ٹرائل کورٹ سے سزاؤں تک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، تاہم اس کہانی کا سب سے اہم قانونی باب یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمے کا انجام پوسٹ میں شامل نہیں۔
یہی وہ پہلو ہے جو اس واقعے کو محض ایک سنسنی خیز قتل کی داستان کے بجائے پولیس تفتیش، استغاثہ کے شواہد اور عدالتی نظام کا اہم کیس بناتا ہے۔
دستیاب عدالتی و اخباری ریکارڈ کے مطابق فہمینہ چوہدری، جو کراچی سے تعلق رکھتی تھیں اور سنگاپور میں مقیم تھیں، اکتوبر 2013 میں اسلام آباد سے لاپتا ہوئیں۔ تھانہ آبپارہ میں ایف آئی آر نمبر 394/2013 درج ہوئی اور پولیس نے معاذ وقار اور آصف محمود کو مقدمے میں نامزد کیا۔
پولیس کا مؤقف تھا کہ تفتیش کے دوران معاذ وقار تک رسائی حاصل ہوئی، اس سے پوچھ گچھ کی گئی اور بالآخر فہمینہ کی لاش برآمد ہوئی۔ اس وقت کی رپورٹس میں اہل خانہ سے دو کروڑ روپے تاوان طلب کیے جانے کا بھی ذکر موجود ہے۔
ٹرائل کورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟
جون 2016 میں اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج (ویسٹ) عابدہ سجاد نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے معاذ وقار کو سزائے موت جبکہ آصف محمود کو عمر قید کی سزا سنائی۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی اُس وقت کی رپورٹنگ میں معاذ وقار کے مبینہ اعترافِ جرم اور پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کا ذکر کیا گیا تھا۔
اگر کہانی یہاں ختم ہوجاتی تو بظاہر پولیس کا دعویٰ اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ایک ہی سمت میں نظر آتے ہیں۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
اصل سوال: اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیا کیا؟
معاذ وقار نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔ قانونی ریکارڈ میں یہ مقدمہ Moaz Waqar v. The State، Criminal Appeal No.115 of 2016 کے نام سے درج ہے اور اسے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔ اس کا قانونی حوالہ 2019 YLR 2219 درج ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمہ دوبارہ شواہد کے قانونی معیار پر پرکھا گیا۔ دستیاب قانونی حوالوں سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اس مقدمے میں CCTV فوٹیج کو قابلِ اعتماد ثبوت کے طور پر ثابت کرنے کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھے تھے۔ ایک قانونی تحقیقی ماخذ نے Moaz Waqar v. The State کو اسی اصول کے لیے حوالہ بنایا ہے کہ محض CCTV فوٹیج پیش کردینا کافی نہیں؛ اسے ریکارڈ کرنے یا سسٹم سے کاپی کرنے والے متعلقہ شخص کی شہادت سمیت قانونی طور پر ثابت کرنا ضروری تھا۔
یعنی جس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے پولیس کی پیش کردہ شہادتوں کی بنیاد پر سزائیں سنائیں، وہی مقدمہ اپیل کے مرحلے پر شواہد کے قانونی معیار کے سوالات سے دوچار ہوا۔
دونوں ملزمان رہا ہوگئے
یہ اس پوری کہانی کا وہ حصہ ہے جو سوشل میڈیا پوسٹ میں نمایاں نہیں کیا گیا۔
فروری 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاذ وقار اور آصف محمود کو بری کردیا۔
چنانچہ ایک ہی کیس میں عدالتی سفر کچھ یوں بنتا ہے:
2013: فہمینہ چوہدری لاپتا → مقدمہ درج → دو افراد گرفتار
2016: ٹرائل کورٹ → معاذ وقار کو سزائے موت، آصف محمود کو عمر قید
بعد ازاں: ملزمان کی اپیل
اسلام آباد ہائیکورٹ: ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار نہ رہ سکا اور دونوں ملزمان بری ہوگئے۔
قانونی ڈیٹا بیس میں بھی معاذ وقار کا مقدمہ Criminal Appeal No.115/2016، 2019 YLR 2219 کے طور پر درج ہے۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر بے گناہوں کو قتل کیس میں پھنسایا؟
یہاں صحافتی احتیاط ضروری ہے۔
صرف ہائیکورٹ کی جانب سے بری کیے جانے سے یہ خود بخود ثابت نہیں ہوتا کہ پولیس نے جان بوجھ کر کسی بے گناہ کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا تھا۔
البتہ یہ ضرور ایک جائز اور اہم سوال ہے کہ:
اگر پولیس کے پاس اتنے مضبوط شواہد تھے کہ ٹرائل کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سنا دی، تو اپیل میں وہی کیس کیوں برقرار نہ رہ سکا؟
یہی سوال اس کیس کو دوبارہ زیر بحث لانے کی اصل وجہ بن سکتا ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ پولیس کا تفتیشی دعویٰ، ٹرائل کورٹ کی سزا اور ہائیکورٹ کی بریت تین الگ قانونی مراحل ہیں۔ کسی شخص کو گرفتار کرنا یا ٹرائل کورٹ سے سزا ملنا اسے حتمی طور پر مجرم ثابت نہیں کرتا؛ حتمی نتیجہ اپیل کے بعد تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔
اسرار راجپوت کی پوسٹ پر سوال کیوں؟
اسرار راجپوت کی پوسٹ میں پولیس کی تفتیش کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس میں معاذ کی گرفتاری، مبینہ اعتراف، گاڑی، لاش کی برآمدگی اور پوسٹ مارٹم جیسے نکات شامل ہیں۔
لیکن اگر اس واقعے کو آج دوبارہ عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے تو صرف 2013 کی پولیس کہانی اور 2016 کی ٹرائل کورٹ سزا بیان کرنا مکمل تصویر نہیں۔
مکمل تصویر میں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ:
وہی ملزمان بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے بری ہوئے۔
یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اپیل کے مرحلے پر استغاثہ کے شواہد کو کس قانونی معیار پر پرکھا گیا، کون سے شواہد قابلِ قبول یا ناکافی قرار پائے اور عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں کہاں قانونی خامی دیکھی۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ “فہمینہ چوہدری کے قتل کی کہانی کیا تھی؟”
اصل سوال یہ ہے:
“جس کیس کو اسلام آباد پولیس نے کامیاب تفتیش قرار دیا، جس میں ٹرائل کورٹ نے دو افراد کو مجرم قرار دیا، وہی کیس اعلیٰ عدالت میں کیوں ختم ہوگیا؟”
اور اگر یہ مکمل تاریخی واقعہ دوبارہ سوشل میڈیا پر بیان کیا جا رہا ہے تو بریت کا باب کیوں غائب ہے؟
ایک اہم قانونی فرق
اس کیس کے حوالے سے یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ “پیسہ اور اثر و رسوخ جیت گیا” یا یہ کہ “بااثر خاندان کی وجہ سے ملزمان بری ہوئے” جب تک اس دعوے کی تائید عدالتی فیصلے یا کسی قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت سے نہ ہو۔
اسی طرح یہ کہنا کہ “اسلام آباد پولیس نے جان بوجھ کر چند افراد کو قتل کیس میں پھنسا دیا” بھی موجودہ دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر بطور حتمی حقیقت نہیں لکھا جا سکتا۔
البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پولیس کے دعووں اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے باوجود اپیل کے مرحلے پر ملزمان بری ہوگئے، اور یہی وہ اہم قانونی پیش رفت ہے جسے کسی بھی مکمل رپورٹ میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
فہمینہ چوہدری کیس کی مکمل کہانی صرف قتل، گرفتاری اور سزائے موت تک محدود نہیں؛ اس کا سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ آخر وہ شواہد اعلیٰ عدالت میں کیوں کافی ثابت نہ ہوئے۔
اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عوام کو 2013 کی پولیس تفتیش کے ساتھ 2018/2019 کے عدالتی ریکارڈ میں بھی تلاش کرنا چاہیے۔
کراچی کی لڑکی ، سنگا پور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں ق۔ت۔ل ۔۔۔۔ 2013 میں اسلام آباد پولیس نے ایک ہائی پروفائل کیس کو کیسے حل کیا تھا ؟ تمام تفصیلات ۔۔۔۔۔ فہمینہ چوہدری کا تعلق کراچی سے تھا ۔ یہ نہ صرف ایک بنکار خاتون تھی بلکہ ماڈلنگ بھی کرتی تھی اور مقابلہ حسن میں بھی حصہ لیتی ، اگرچہ یہ کبھی ملکہ حسن نہ بن سکی لیکن بہرحال ایک اچھی ماڈل تھی ، اچھا کماتی اور سنگا پور میں معاشی طور پر زبردست زندگی گزار رہی تھی ۔ فہمینہ شادی شدہ تھی اور اسکا ایک بیٹا بھی تھا مگر 2013 میں اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے لاپتہ ہونے سے چند ماہ پہلے اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی ۔۔۔ فہمینہ چوہدری کے لاپتہ ہونے اور نمبر بند جانے کی اطلاع اس کی والدہ نے کراچی سے اسلام آباد آکر پولیس کو دی اور اسے ڈھونڈنے میں مدد کی درخواست کی ۔ پولیس نے لڑکی کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش شروع کی معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتہ چلا کہ ایک نمبر سے فہمینہ کی والد کو ایک میسج آیا تھا کہ 2 کروڑ تاوان کا بندوبست کرکے اسلام آباد آجاؤ ۔ تمہاری بیٹی زندہ ہے اور اسکے ساتھ دو لوگوں کو ق۔ت۔ل کردیا گیا ہے لیکن اگر چند روز میں تاوان نہ دیا گیا تو تمہاری بیٹی کو بھی ق۔ت۔ل کردیا جائے گا ۔ پھر پتہ چلا کہ فہمینہ جس ہوٹل میں رکی ہوئی تھی وہاں کی بکنگ معاذ نامی ایک نوجوان نے کروائی تھی اور اس نے خود کو فہمینہ کا شوہر قرار دیا تھا ، معاذ کی معلومات اکٹھی کی گئیں تو پتہ چلا کہ وہ ایک نامور خاتون بیوروکریٹ کا بیٹا ہے جو کچھ عرصہ سنگا پور میں پاکستانی سفارتخانے میں خدمات سر انجام دیتی رہیں ۔ یہ معلومات اتنی تھیں کہ معاذ کو گرفتار کرنا ضروری ہو گیا ، پولیس نے اسے گرفتار کیا اور تھانے لائی تو اسکے لیے سفارشوں کی لائن لگ گئی ، کیا بیوروکریسی ،کیا فورسز ہر جگہ سے فون آنے لگے ، سلام اس ایس ایچ او کی جرات پر جس نے ہر سفارش پر جواب دیا کہ لڑکی کا کچھ پتہ چلنے دیں اگر لڑکا بے قصور ہے تو اسے ضروری معلومات لے کر چھوڑ دیا جائے گا ۔ پولیس نے لڑکے سے پوچھ گچھ کی لیکن اپنے اثر رسوخ کی اکڑ میں وہ ہر سوال کا جواب ناں میں دیتا ، اور ظاہر کرتا رہا کہ وہ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے ۔ اسکا خاندانی پس منظر ہے اسکے والدین کی ملک کے لیے خدمات ہیں بھلا وہ کسی جرم کا کیسے سوچ سکتا ہے ۔۔۔ لڑکی کے بارے میں اسکا موقف تھا کہ فہمینہ میری دوست ضروری تھی وہ پریشانی میں اسلام آباد آئی تو میں نے اسے ہوٹل میں بکنگ کروا دی اس سے زیادہ اسے نہین معلوم کہ وہ ہوٹل سے نکل کر اکیلی کہاں جاتی تھی ، ظاہر ہے ماڈل گرل تھی تو اسکے میل جول یا تعلقات سے وہ ناواقف تھا ۔۔۔ معاذ کے اس موقف پر پولیس اس کیس میں اٹک گئی لیکن اسے حوالات میں رکھا گیا اور اس نمبر پر کام شروع کیا گیا جو فہمینہ کی والدہ کو تاوان کا پیغام بھیجنے کے لیے استعمال ہوا تھا ۔۔ یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ سم ایک ہونڈا گاڑی کے ٹریکر کی تھی ، اس گاڑی کو تلاش کیا گیا تو وہ رینٹ اے کار کی گاڑی نکلی ، اس رینٹ اے کار سے ریکارڈ لیا گیا تو پتہ چلا کہ معاذ نے وہ گاڑی چند روز قبل رینٹ پر لی تھی ۔ اب پولیس کے پاس ایک مضبوط ثبوت آگیا تھا ، ایس ایچ او صاحب نے بذات خود ملزم کو انٹیروگیشن روم میں ٹف ٹائم دیا تو چند گھنٹوں کے بعد ملزم طوطے کی طرح فر فر بولنے لگا ۔ اس نے ایک گلاس پانی مانگا اور پھر پانی پی کر تفصیلات بتانے لگا ۔۔۔ اسکی اور فہمینہ کی ملاقات سنگا پور میں ہوئی جب معاذ کی والدہ وہاں تعینات تھیں ۔ ایک ڈانسنگ کلب میں ملاقات محبت اور روزانہ کی بنیاد پر ملاقاتون میں بدل گئی ، فہمینہ اس پرجوش نوجوان کی دیوانی ہو گئی اور اس نے اظہار کرنا شروع کردیا کاش تم میرے شوہر ہوتے ، معاذ بھی فہمینہ کا عادی ہو چکا تھا یہ جواب دیتا کہ اگر شوہر سے طلاق لے لو تو میں تمہارے ساتھ شادی کرلوں گا ۔۔۔ شاید دونوں حد سے بڑھ چکے تھے یا پھر فہمینہ کی عقل پر پردہ پڑ گیا تھا اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی اور واپس کراچی اپنی ماں کے پاس آگئی ، ادھر معاذ بھی اپنی والدہ کے ساتھ واپس پاکستان آگیا ۔۔۔ چند ہفتے ماں کے پاس گزارنے کے بعد فہمینہ اسلام آباد پہنچی اور ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہو گئی ۔ اس بیچاری کا پروگرام تھا کہ اسکے پاس موجود ایک بھاری رقم (لگ بھگ 70 لاکھ روپے) سے معاذ کوئی کاروبار شروع کرے اور ساتھ ہی اس سے شادی کر لے تاکہ وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کریں ، معاذ نے رقم تو لے لی لیکن اب فہمینہ اسے بوجھ لگنے لگی ، چنانچہ اس نے فہمینہ سے جان چھڑانے کے لیے ایک دوست کی مدد حاصل کی دونوں نے بنی گالہ میں ایک مکان کرائے پر لیا ، وقوعہ سے دو رو قبل وہ فہمینہ کو اس گھر میں لے گئے جہاں انہوں نے ظاہر کیا کہ اب وہ اسی گھر میں رہے گی یہیں شادی ہو گئی وغیرہ وغیرہ ۔۔ لیکن دوسری رات معاذ نے اپنے
دوست کی مدد سے فہمینہ کو پہلے نیند کی گو۔لیاں دے کر سلا دیا پھر اسے گلا گھونٹ کر مار ڈالا ۔ اسکے بعد یہ فہمینہ کی لا۔ش ایک رضائی میں لپیٹ کر اور اسی ہونڈا کار کی ڈگی میں ڈال کر مارگلہ پہاڑیوں میں ایک سنسنان جگہ پر لے گئے جہاں بدقسمت فہمینہ چوہدری کو ایک گڑھا کھود کر دفن کر دیا گیا ۔۔۔۔ پولیس نے معاذ کی نشاندہی پر لا۔ش ڈھونڈ نکالی ، پوسٹ ۔مارٹم ہوا ، لا۔ش نسبتا محفوظ تھی ۔رپورٹ میں وجہ ق۔ت۔ل گلا دبانے اور سانس بند ہونے سے قرار دی گئی جبکہ معدے سے نشا آور شے کے استعمال کا ثبوت بھی مل گیا ۔ بھر پور چالان کے ساتھ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا جہاں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی ، چند ماہ بعد دونوں ملزمان کو سزا۔ئے موت سنا دی گئی مگر افسوس یہ عدالتی سزا صرف چند سال برقرار رہی ، پیسہ اور اثر رسوخ جیت گیا ، فہمینہ چوہدری کی بوڑھی ماں پیسےا ور طاقت و اثر رسوخ کا مقابلہ نہ کرسکی اور دو سال بعد ہی دونوں ملزمان کو عدالت نے شک کا فائدہ دے کر بری کردیا تھا ۔۔۔۔ #fblifestyle
میں نے دستیاب اخباری رپورٹس اور عدالتی حوالوں کو ملا کر کیس کی تفصیلات چیک کی ہیں۔ ایک اہم تصحیح یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کہانی کے بعض حصے عدالتی/معتبر ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتے، اس لیے انہیں خبر میں قطعی حقیقت کے طور پر شامل کرنا درست نہیں ہوگا۔
فہمینہ چوہدری قتل کیس: اصل واقعہ، ایف آئی آر، ملزمان اور عدالتی فیصلے
اسلام آباد: سنگاپور میں مقیم پاکستانی ماڈل فہمینہ چوہدری کے قتل کا مقدمہ، ٹرائل کورٹ کی سزائے موت سے ہائیکورٹ کی بریت تک
اسلام آباد: کراچی سے تعلق رکھنے والی اور سنگاپور میں مقیم پاکستانی ماڈل فہمینہ چوہدری اکتوبر 2013 میں اسلام آباد کے دورے کے دوران لاپتا ہوئیں اور چند روز بعد ان کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس نے تفتیش کے بعد معاذ وقار اور آصف محمود کو گرفتار کیا، جبکہ دونوں کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق فہمینہ چوہدری 9 اکتوبر 2013 کو اسلام آباد پہنچی تھیں اور ایک نجی ہوٹل میں قیام کیا۔ اگلے روز ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ ان کی والدہ نوشابہ تسکین نے اسلام آباد پہنچ کر پولیس سے رابطہ کیا، جس کے بعد 12 اکتوبر 2013 کو تھانہ آبپارہ میں ایف آئی آر نمبر 394/2013 درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365-A/34 شامل تھیں۔
پولیس تفتیش اور ملزمان
پولیس نے تفتیش کے دوران معاذ وقار اور آصف محمود کو مقدمے میں نامزد کیا۔ اُس وقت کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے معاذ کو فون ریکارڈ سمیت مختلف شواہد کی بنیاد پر ٹریس کیا اور تفتیش کے دوران اس سے فہمینہ کی لاش کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ پولیس نے اس کی نشاندہی پر لاش برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس کیس کے حوالے سے اس وقت کی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا کہ فہمینہ کے اہل خانہ سے دو کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ تاہم مختلف اخباری رپورٹس میں قتل کے محرکات اور رقم کے حوالے سے کچھ اختلاف بھی ملتا ہے؛ ایک رپورٹ میں زمین کے ایک معاملے کا ذکر کیا گیا جبکہ دیگر رپورٹس میں تاوان کا معاملہ نمایاں طور پر بیان ہوا۔
ٹرائل کورٹ کا فیصلہ
مقدمہ اسلام آباد کی عدالت میں چلا۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج (ویسٹ) عابدہ سجاد نے جون 2016 میں فیصلہ سنایا۔
عدالت نے معاذ وقار کو سزائے موت سنائی جبکہ آصف محمود کو عمر قید کی سزا دی۔ دونوں کو قتل کے علاوہ فراڈ اور جرم کے شواہد غائب کرنے سے متعلق الزامات میں بھی قصوروار قرار دیا گیا۔ معاذ کو مقتولہ کے قانونی ورثا کو مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا، یعنی ہر قانونی وارث کے لیے 3 لاکھ روپے۔
اس وقت کی رپورٹس کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ 12 اکتوبر 2013 کو درج کیا گیا تھا اور ٹرائل کورٹ نے پولیس کی پیش کردہ شہادتوں کی بنیاد پر انہیں مجرم قرار دیا۔
پھر سزائے موت کیوں ختم ہوئی؟
یہ اس کیس کا سب سے اہم قانونی پہلو ہے۔
فروری 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں ملزمان، معاذ وقار اور آصف محمود، کو بری کردیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی شامل تھے۔ دستیاب عدالتی رپورٹ کے مطابق ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ختم کرتے ہوئے دونوں کو قتل کے مقدمے سے بری کیا۔
یہاں ایک اہم بات قابلِ ذکر ہے: آن لائن دستیاب معتبر خبر میں بریت کی مکمل وجوہات یا فیصلے کے تمام پیراگراف موجود نہیں ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ عدالت نے لازماً صرف ’’شک کا فائدہ‘‘ دے کر بری کیا یا یہ ثابت کرنا کہ ’’پیسہ اور اثر و رسوخ‘‘ اس بریت کی وجہ تھا، دستیاب عدالتی مواد سے ثابت نہیں ہوتا۔ ایسی بات کو خبر میں قطعی حقیقت کے طور پر لکھنا درست نہیں ہوگا۔
مقدمے کا عدالتی حوالہ
دستیاب قانونی ڈیٹا بیس میں Moaz Waqar v. The State کے نام سے Criminal Appeal No. 115 of 2016 کا اندراج بھی موجود ہے، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ سے منسوب کیا گیا ہے۔ قانونی ڈیٹا بیس میں اس کا حوالہ 2019 YLR 2219 اور جسٹس محسن اختر کیانی کا نام درج ہے۔ تاہم اس اندراج کی تاریخ 2019 ہے، جبکہ اخباری ریکارڈ فروری 2018 میں دونوں ملزمان کی بریت رپورٹ کرتا ہے؛ اس لیے اسے حتمی طور پر اسی 2018 کے بریت فیصلے کا حوالہ قرار دینے سے پہلے اصل عدالتی فائل/مصدقہ فیصلے سے مزید تصدیق ضروری ہے۔
کیا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوری کہانی درست ہے؟
نہیں، پوری کہانی کو مستند عدالتی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خصوصاً یہ دعوے کہ:
معاذ کسی اعلیٰ سرکاری خاتون افسر کا بیٹا تھا؛
اس کی گرفتاری پر بیوروکریسی اور فورسز سے سفارشیں آئیں؛
پولیس افسر نے تمام سفارشیں مسترد کردیں؛
معاذ نے دورانِ تفتیش مکمل اعتراف کیا؛
فہمینہ نے معاذ کو 70 لاکھ روپے دیے تھے؛
قتل نیند کی گولیوں کے بعد گلا گھونٹ کر کیا گیا؛
مخصوص مکان، گاڑی کے ٹریکر اور دیگر تفصیلات اسی ترتیب سے ثابت ہوئیں؛
ہائیکورٹ نے بااثر خاندان کی وجہ سے ملزمان کو بری کیا؛
ان سب کی مجھے دستیاب معتبر عدالتی یا بڑے اخباری ذرائع میں مکمل تصدیق نہیں ملی۔ اس لیے ان تفصیلات کو خبر میں ’’پولیس کے مطابق‘‘ یا ’’عدالتی ریکارڈ کے مطابق‘‘ کہے بغیر بیان کرنا مناسب نہیں۔
ایک اور اہم تصحیح
فہمینہ چوہدری کو بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں ’’مس سنگاپور‘‘ کہا جاتا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں انہیں سنگاپور میں مقیم پاکستانی ماڈل اور مختلف حسن کے مقابلوں میں حصہ لینے والی خاتون بتایا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے 2012 میں Mrs Asian International کا ٹائٹل حاصل کیا تھا، جبکہ دیگر رپورٹس انہیں سابق مس سنگاپور بھی قرار دیتی ہیں۔
خلاصۂ مقدمہ
معاملہ تصدیق شدہ تفصیل
مقتولہ فہمینہ چوہدری
تعلق کراچی
رہائش/کام سنگاپور میں مقیم
واقعہ اکتوبر 2013، اسلام آباد
تھانہ آبپارہ
ایف آئی آر 394/2013، مورخہ 12 اکتوبر 2013
ابتدائی دفعات 365-A/34 PPC
ملزمان معاذ وقار، آصف محمود
ٹرائل کورٹ ایڈیشنل سیشن جج (ویسٹ) عابدہ سجاد
فیصلہ جون 2016
معاذ وقار سزائے موت
آصف محمود عمر قید
ہائیکورٹ فروری 2018 میں دونوں بری
ہائیکورٹ بینچ جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی
نتیجہ: فہمینہ چوہدری کیس میں سب سے مضبوطی سے دستاویزی حقیقت یہ ہے کہ 2013 میں آبپارہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاذ وقار اور آصف محمود کو گرفتار کیا، 2016 میں ٹرائل کورٹ نے ایک کو سزائے موت اور دوسرے کو عمر قید سنائی، اور فروری 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں کو بری کر دیا۔ البتہ بریت کے مکمل قانونی اسباب اور سوشل میڈیا پر بیان کردہ ’’اثر و رسوخ‘‘ والی کہانی کو اصل عدالتی فیصلے کے بغیر حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔