گلبرگ گرینز مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کیس: تحقیقات کا دائرہ وسیع، اہم چینی شہری کی گرفتاری کا دعویٰ
اسلام آباد: گلبرگ گرینز میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے خلاف کارروائی کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران گرفتار غیر ملکی شہریوں سے تفتیش کے ساتھ ساتھ مبینہ بین الاقوامی آن لائن فراڈ نیٹ ورک کے ایک اہم چینی شہری کو بھی حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست چینی شہری کی شناخت ژاؤ جیان پنگ (Xiao Jianping) کے نام سے بتائی جا رہی ہے۔ تاہم گرفتاری، شناخت اور اس سے منسوب الزامات کے حوالے سے تاحال کوئی واضح باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
384 غیر ملکی شہریوں سے تفتیش
ذرائع کا کہنا ہے کہ گلبرگ گرینز میں کارروائی کے دوران 384 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تفتیشی ادارے اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان میں قائم مبینہ کال سینٹرز کے ذریعے آن لائن فراڈ، سائبر جرائم اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں کس انداز میں چلائی جا رہی تھیں۔
موبائل فونز اور ڈیجیٹل آلات کی فرانزک جانچ
تفتیشی ذرائع کے مطابق زیرِ حراست چینی شہری کے قبضے سے موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات حاصل کیے گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک جدید آئی فون تک رسائی حاصل کرنے اور اس میں موجود ڈیٹا کا تجزیہ کرنے میں تفتیش کاروں کو ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مبینہ طور پر فون سے پاکستان میں موجود مختلف افراد کے رابطہ نمبرز اور دیگر معلومات سامنے آئی ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات مزید آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
ایف آئی اے اہلکاروں پر مبینہ حملے کا دعویٰ
ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ موبائل فونز کے پاس ورڈز اور ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی کی کوشش کے دوران زیرِ حراست شخص نے مبینہ طور پر دو ایف آئی اے اہلکاروں پر حملہ کیا، جس سے وہ زخمی ہوئے۔
تاہم اس دعوے کی بھی آزادانہ یا باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے صرف تفتیشی ذرائع سے منسوب الزام کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔
ویزہ اسپانسر اور کمپنی کا معاملہ بھی زیرِ تفتیش
ذرائع کے مطابق چینی شہری کو مبینہ طور پر 27 جون 2026 سے جون 2027 تک ایک سالہ ملٹی پل انٹری ویزہ جاری ہوا۔ تفتیش میں مبینہ طور پر اس ویزے کے اسپانسر اور پاکستان میں اس کی سرگرمیوں سے متعلق دستاویزات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپانسر کے طور پر لاہور میں رجسٹرڈ ایک کمپنی سے وابستہ خاتون کا نام سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ کمپنی کا نام M/s Akbari Polymers (Pvt.) Limited بتایا جا رہا ہے۔
تاہم کمپنی یا اس سے وابستہ کسی فرد کو غیر قانونی سرگرمی میں ملوث قرار دینا قبل از وقت ہوگا، جب تک متعلقہ اداروں کی تحقیقات، باضابطہ ریکارڈ یا عدالتی کارروائی سے کوئی الزام ثابت نہ ہو۔
سیاسی شخصیت سے مبینہ تعلق کا دعویٰ
تحقیقات سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں سیاسی شخصیت مروت کا نام بھی مبینہ طور پر سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور ان پر چینی شہریوں کو مبینہ طور پر قانونی تحفظ فراہم کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تاہم ان الزامات کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد سرکاری یا آزادانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کی بنیاد پر کسی سیاسی شخصیت کو کسی مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورک سے منسلک قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سرکاری افسران کے نمبرز کی بھی چھان بین
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست شخص کے موبائل فونز سے ملنے والے پاکستانی سرکاری اداروں کے بعض افسران کے رابطہ نمبرز بھی تفتیش کا حصہ بن گئے ہیں۔
تفتیش کار اس امر کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر کسی سرکاری افسر کا نمبر مبینہ ملزمان کے فون سے برآمد ہوا ہے تو آیا یہ محض معمول کا رابطہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی غیر قانونی سہولت کاری، مالی لین دین یا دیگر مفاد بھی موجود تھا۔
تحقیقات میں مزید گرفتاریوں کا امکان
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں ویزہ اسپانسرشپ، غیر ملکی شہریوں کی پاکستان میں رہائش، کال سینٹرز کے آپریشن، کمپنیوں کے کردار، مالی لین دین، ڈیجیٹل کمیونیکیشن اور ممکنہ مقامی سہولت کاروں سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی اداروں کو ڈیجیٹل فرانزک کے نتیجے میں اگر کسی منظم بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک، مالی معاونت یا مقامی سہولت کاری کے قابلِ اعتماد شواہد ملے تو تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے اور مزید گرفتاریاں عمل میں آنے کا امکان ہے۔
اہم وضاحت: اس رپورٹ میں شامل غیر مصدقہ الزامات کو حتمی حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ خصوصاً کسی سیاسی شخصیت، کمپنی، سرکاری افسر یا دوسرے فرد کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ اداروں کے باضابطہ بیانات، ایف آئی آر، عدالتی ریکارڈ یا قابلِ اعتماد دستاویزی شواہد کی روشنی میں ہی طے کی جا سکتی ہے۔