وقت بہت کچھ سکھا دیتا ہے، مگر سیاسی حافظہ اتنا کمزور بھی نہیں ہونا چاہیے
چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ “میرے سیاسی تجربے کے مطابق پاکستان میں صرف نواز شریف ہی بہتر نظام چلا سکتا ہے، باقی اس لیول کا کوئی لیڈر دستیاب ہی نہیں۔”
سیاسی تجربہ اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ اگر آج نواز شریف ہی ’’اس لیول‘‘ کے واحد لیڈر نظر آ رہے ہیں تو پھر وہ وقت کیسے بھلایا جائے جب اسی لیڈر کو سب سے زیادہ ساتھ، اعتماد اور وفاداری کی ضرورت تھی؟
چودھری نثار اور نواز شریف کی سیاسی رفاقت کوئی معمولی تعلق نہیں تھا۔ برسوں کی قربت، اقتدار کے کئی ادوار اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں اہم کردار کے باوجود دونوں کے راستے ایسے وقت میں جدا ہوئے جب نواز شریف شدید سیاسی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
سیاست میں اختلافِ رائے جمہوری حق ہے، لیکن سیاسی تاریخ میں وقت، موقع اور ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ بھی محفوظ رہتا ہے۔
آج نواز شریف کو ’’پاکستان کا واحد بہتر نظام چلانے والا لیڈر‘‘ قرار دینا یقیناً چودھری نثار کی موجودہ سیاسی رائے ہے، مگر اس کے ساتھ ماضی کا وہ باب بھی یاد رکھنا چاہیے جس میں یہی سوال اٹھا تھا کہ مشکل وقت میں ’’اس لیول کے لیڈر‘‘ کے ساتھ کون کھڑا تھا اور کون نہیں۔
وقت گزر جاتا ہے، سیاسی بیانات بدل جاتے ہیں، مگر سیاسی حافظہ تاریخ کے صفحات سے آسانی سے مٹتا نہیں۔