لوک ورثہ میں 59 ملازمین کو 53 لاکھ روپے کے کیش ایڈوانس کا انکشاف، قانونی منظوری نہ ہونے کا اعتراف
اسلام آباد (مسعود چوہدری): وفاقی وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے ماتحت ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) میں سرکاری فنڈز سے ملازمین کو کیش ایڈوانس اور قرض کی مد میں رقوم کی ادائیگی کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن میں جمع کرائے گئے لوک ورثہ کے تحریری جواب کے مطابق 59 ملازمین کو مجموعی طور پر 53 لاکھ 69 ہزار 759 روپے کیش ایڈوانس فراہم کیے گئے، تاہم ان ادائیگیوں کے لیے کسی مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔
یہ انکشاف درخواست گزار ملک محمد نواز سوکی کی جانب سے حقِ معلومات کے قانون کے تحت مالیاتی معاملات کی تفصیلات طلب کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن میں زیرِ سماعت اپیل نمبر 5425-03/2026 کے دوران لوک ورثہ انتظامیہ نے سپرنٹنڈنٹ ایڈمن عبید الرحمن کے دستخطوں سے سوال وار تحریری جواب جمع کرایا۔
لوک ورثہ کے سرکاری جواب کے مطابق ادارے کے دو اکاؤنٹس اہلکاروں نے سرکاری فنڈز سے ملازمین کو کیش ایڈوانس فراہم کیے، تاہم ان کے لیے کسی مجاز اتھارٹی سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔
تحریری جواب میں انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج آرڈیننس 2002 میں ملازمین کو قرض یا کیش ایڈوانس دینے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں، جبکہ لوک ورثہ کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے بھی ایسے کسی انتظام کی منظوری نہیں دی گئی۔
دستاویزات کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد اسے بورڈ آف گورنرز کے علم میں لایا گیا، جبکہ متعلقہ ملازمین سے رقوم کی وصولی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک تقریباً 10 لاکھ روپے واپس وصول کیے جاچکے ہیں اور باقی رقم ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ اقساط کی صورت میں ریکور کی جارہی ہے۔
انتظامیہ نے اپنے جواب میں یہ بھی بتایا کہ معاملے میں ملوث سابق اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب درخواست گزار ملک محمد نواز سوکی نے لوک ورثہ انتظامیہ کے اعتراف کے باوجود کئی بنیادی سوالات کو بدستور جواب طلب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر برسوں تک سرکاری رقوم ملازمین میں تقسیم ہوتی رہیں تو اس مالیاتی نظام کی نگرانی کرنے والے ذمہ دار افسران کون تھے اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
ملک نواز سوکی کے مطابق یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اگر مذکورہ عمل غیر قانونی تھا تو بروقت اس کی نشاندہی کیوں نہ ہوسکی اور سرکاری فنڈز ملازمین میں تقسیم کرنے کی اجازت کس سطح پر دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ محض سابق اہلکاروں کے خلاف کارروائی کافی نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔
لوک ورثہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ادارے کو میوزیم سے روزانہ تقریباً 70 سے 80 ہزار روپے جبکہ پاکستان مونیومنٹ سے روزانہ 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک نقد آمدن حاصل ہوتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق لوک ورثہ کی مجموعی آمدن میں بھی گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، جو مالی سال 2020-21 میں تقریباً 3 کروڑ 33 لاکھ روپے تھی اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر تقریباً 14 کروڑ 67 لاکھ روپے ہوگئی۔
معاملے کے تناظر میں عوامی اور صحافتی حلقوں نے لوک ورثہ کے مالیاتی معاملات کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ کیش ایڈوانس کی مکمل رقم کی وصولی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس پورے معاملے میں ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر معاملہ متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے سپرد کیا جائے۔
دریں اثنا یہ سوال بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اگر سرکاری فنڈز سے 53 لاکھ روپے سے زائد کی رقم 59 ملازمین میں تقسیم ہوتی رہی تو ادارے کے مالیاتی اور انتظامی نگرانی کے نظام کو اس کا بروقت علم کیوں نہ ہوسکا۔
لوک ورثہ انتظامیہ کی جانب سے معاملے میں سابق اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور رقوم کی ریکوری شروع کرنے کے اعتراف کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا ذمہ داری کا تعین صرف متعلقہ سابق اہلکاروں تک محدود رہے گا یا اس پورے مالیاتی نظام کی نگرانی اور منظوری کے ذمہ دار افسران کا بھی تعین کیا جائے گا۔