کراچی میں مبینہ پولیس اہلکاروں کی شہریوں سے بھتہ خوری کی ویڈیو وائرل، سخت کارروائی کا مطالبہ

کراچی میں مبینہ پولیس اہلکاروں کی شہریوں سے بھتہ خوری کی ویڈیو وائرل، سخت کارروائی کا مطالبہ

کراچی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کے رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گذری تھانے کی حدود میں کلفٹن اور ڈیفنس جانے والے راستے پر پولیس اہلکاروں نے ایک فیملی اور کپل کو روک کر ہراساں کیا اور مبینہ طور پر 30 ہزار روپے نقد وصول کیے۔

واقعے پر عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر ویڈیو اور الزامات درست ثابت ہوں تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی نہیں بلکہ فوجداری مقدمہ بھی درج کیا جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی سرکاری اہلکار کی جانب سے شہریوں کو ڈرا دھمکا کر رقم وصول کرنے کے الزامات ثابت ہو جائیں تو یہ مختلف فوجداری قوانین اور انسدادِ بدعنوانی سے متعلق قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

شہریوں نے انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اور کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر اہلکار قصوروار پائے جائیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

نوٹ: مذکورہ واقعے سے متعلق الزامات سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں