پشاور: پی ٹی آئی کا جلسہ، 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

پشاور: پی ٹی آئی کا جلسہ، 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور صوبائی صدر جنید اکبر نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک آگے بڑھانے کا اعلان کردیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی قید کو تین سال مکمل ہوچکے ہیں، وہ جیل کی سختیاں صرف عوام کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی ایک دستخط کردیں تو جیل سے باہر آسکتے ہیں، لیکن وہ عوام کے لیے مشکلات برداشت کر رہے ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد انہیں عدالتوں پر اعتماد نہیں رہا۔ بانی پی ٹی آئی کو صرف ’’ایبسولوٹلی ناٹ‘‘ کہنے پر اقتدار سے ہٹایا گیا، جبکہ ان کی حکومت میں نوجوان اور کسان خوش تھے اور پاکستان ترقی کر رہا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو بیرونی اور اندرونی سازشوں کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رجیم چینج کے بعد خیبرپختونخوا میں دوبارہ بدامنی پھیلائی جا رہی ہے اور صوبے کے مختلف اضلاع میں معصوم شہری ڈرون اور خودکش حملوں میں جاں بحق ہو رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ تمام جمہوری اور قانونی راستے اختیار کرلیے گئے لیکن انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کا یہ دسواں جلسہ ہے، تاہم یہ جلسہ آخری ہوگا اور آج کارکنوں کو آخری لائحہ عمل دیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال کے دوران سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، عدالتوں اور پارلیمان سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن ریاست نے پارٹی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔

انہوں نے کہا کہ تین سال بعد ’’شہباز اسپیڈ‘‘ ناکام ہوگئی، اب عوام کا سمندر نکلے گا۔ بیرسٹر گوہر نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپنی گھڑیوں کی الٹی گنتی شروع کردیں، ہمارا آخری فیصلہ آنے والا ہے۔‘‘

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تمام دستیاب فورمز اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی اور کارکنوں کو ریاست سے نہ لڑنے کی ہدایت کی گئی، تاہم ان کے بقول ریاست نے مفاہمت کو کمزوری سمجھا۔

جنید اکبر نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ رہیں بلکہ میدان میں نکلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن ایم پی اے یا ایم این اے کے لیے نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے باہر نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ریاست کو کمزور نہیں کرنا چاہتی، تاہم موجودہ حالات میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔ جنید اکبر نے دعویٰ کیا کہ 80 فیصد عوام بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں کو احتجاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل پر عملدرآمد کا اعلان کیا اور کہا کہ پارٹی اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی خبر کا مختصر نیوز ویب ورژن، 5 لائنوں کی بریکنگ، یا یوٹیوب/فیس بک پوسٹ بھی بنا سکتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں