یومِ شہدائے پولیس: دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کا عزم، شہداء کے خاندانوں کیلئے 50 ہزار روپے اضافی اعزازی رقم کا اعلان
پشاور: یومِ شہدائے پولیس خیبرپختونخوا کے موقع پر پشاور میں منعقدہ تقریب میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج شہداء اور غازیوں کے لواحقین ہمارے مہمانِ خصوصی ہیں، یہ سب ہمارے محسن ہیں اور ہم ان کی قربانیوں کے مقروض ہیں۔ حکومت اور ریاست شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء نے اپنی سب سے عزیز چیز یعنی جان ملک پر قربان کی، ان کی قربانی اور خون کے ایک ایک قطرے کا اصل مقصد حاصل کیا جائے گا۔ جس مقصد کے لیے ہمارے جوانوں نے جانیں قربان کیں، ہم وہ مقصد حاصل کریں گے۔
کور کمانڈر پشاور نے کہا کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پاکستان پر دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی ہے، پورے ملک کا فرض ہے کہ مل کر اس کے خلاف لڑیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام ریاستی اداروں اور عوام کو ملک کے نظریے اور جغرافیے کی حفاظت کے لیے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بے گناہ لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے، جبکہ ہمارا دین سکھاتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری نے کہا کہ دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہم سب کو اپنے وطن اور دین کی حفاظت کے لیے ایک ہونا ہوگا اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اسی اتحاد کی ضرورت ہے جس اتحاد و یگانگت کے ذریعے معرکہ حق میں بڑے دشمن کو شکست سے دوچار کیا گیا۔
کور کمانڈر پشاور کے مطابق یومِ شہدائے پولیس منانے کا مقصد یہ عہد تازہ کرنا ہے کہ ہمارے جوانوں اور عوام نے جس مقصد کے لیے قربانیاں دی ہیں، اسے جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانی پولیس نے دی ہے، ہزاروں اہلکاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ رواں سال 150 پولیس جوانوں نے بھی قربانی دی، جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور کے ہزاروں جوان بھی شہید ہوچکے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاک فوج کے ساڑھے چھ ہزار جوانوں اور افسران نے بھی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ پولیس ایک سافٹ ٹارگٹ ہے جسے سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ مکار دشمن پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا، ان شاء اللہ سب مل کر بزدل دشمن کو شکست دیں گے۔ شہداء کے بچوں کا جذبہ بھی جوان ہے، انہیں اپنے والدین کی قربانیوں پر فخر ہے اور وہ ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
شہداء کے ہر خاندان کیلئے 50 ہزار روپے اضافی اعزازی رقم کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہم محفوظ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال بہادری اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے شہداء کے ہر خاندان کے لیے 50 ہزار روپے اضافی اعزازی رقم دینے کا اعلان کیا اور شہداء کے ورثاء کو پلاٹوں کی فراہمی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی کے مطابق گزشتہ مالی سال پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے تقریباً 35 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 85 ارب روپے سے بڑھا کر 180 ارب روپے سے زائد کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، اسی لیے حکومت کی اولین ترجیح قیامِ امن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں عمران خان کی حکومت کے دوران خیبرپختونخوا میں امن دیکھا گیا۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی 20 سالہ قربانیوں سے امن قائم ہوا، اسے خراب کرنے والی پالیسیوں پر تنقید ہوگی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں پر تنقید بے جا نہیں کیونکہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ خیبرپختونخوا متاثر ہوا اور گھر اجڑ رہے ہیں۔ ریاستی فیصلوں کے نتیجے میں دوبارہ دہشت گردی مسلط ہونے پر صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ 22 سالہ ناکام پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت سے ہی پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کی امن پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن کے اندر خیبرپختونخوا میں امن قائم کرکے دکھائیں گے۔ انا اور بغض کی وجہ سے اگر ہم ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیں گے تو اس کا نقصان سب کو ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا اپنی پولیس کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو بالکل غیر سیاسی رکھا گیا ہے۔
پولیس کی نوکری ملازمت نہیں، ایک بڑا چیلنج ہے: آئی جی پولیس
آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ شہداء منانے کا مقصد شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی نوکری کہنے کو تو ملازمت ہے لیکن اصل میں یہ ایک بڑا چیلنج ہے، اس ملازمت میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔
آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں نے یہ قربانی چند پیسوں کے لیے نہیں بلکہ وطن کے لیے دی۔ ان شہداء کی قربانی رنگ لائے گی اور خیبرپختونخوا میں جلد امن قائم ہوگا۔
ذوالفقار حمید نے کہا کہ آئندہ بھی شہداء کے حوالے سے پولیس کے جذبے اور عقیدت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
پشاور: یومِ شہدائے پولیس، شہداء کو خراجِ عقیدت، قیامِ امن کے عزم کا اعادہ
پشاور: خیبرپختونخوا میں یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پولیس لائنز پشاور میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی، آئی جی پولیس ذوالفقار حمید، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری سمیت پولیس و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے یادگارِ شہدائے پولیس پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے ایصالِ ثواب اور درجاتِ بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے پولیس کی قربانیاں امن، قانون کی حکمرانی اور وطن کے دفاع کی روشن مثال ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جرأت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، پوری قوم شہدائے پولیس کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ شہداء کے اہل خانہ قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی عزت اور فلاح ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید احمد نے بھی یادگارِ پولیس شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ ملک سعد شہید پولیس لائن مسجد میں شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے ختمِ قرآن اور خصوصی دعا کا اہتمام بھی کیا گیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ شہداء منانے کا مقصد پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو یاد کرنا ہے۔ پولیس کی نوکری بظاہر ملازمت ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑا چیلنج ہے، جس میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں نے یہ قربانی چند پیسوں کے لیے نہیں بلکہ وطن کے لیے دی۔ ان شہداء کی قربانی رنگ لائے گی اور صوبے میں جلد امن قائم ہوگا، آئندہ بھی ہمارے جذبے اور عقیدت میں کمی نہیں آئے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہم محفوظ فضا میں سانس لے رہے ہیں، خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال بہادری اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے شہداء کے ہر خاندان کے لیے 50 ہزار روپے اضافی اعزازی رقم دینے کا اعلان کیا اور شہداء کے ورثاء کو پلاٹوں کی فراہمی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔
سہیل آفریدی کے مطابق گزشتہ مالی سال پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تقریباً 35 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 85 ارب روپے سے بڑھا کر 180 ارب روپے سے زائد کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، حکومت کی اولین ترجیح قیامِ امن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں جب عمران خان کی حکومت آئی تو یہ واحد دور تھا جب خیبرپختونخوا نے امن دیکھا۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی 20 سالہ قربانیوں سے امن قائم ہوا، اسے خراب کرنے والی پالیسیوں پر تنقید ہوگی۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ 22 سالہ ناکام پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت سے پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ اگر عمران خان کی امن پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن کے اندر خیبرپختونخوا میں امن قائم کرکے دکھائیں گے۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ شہداء اور غازیوں کے لواحقین ہمارے مہمان خصوصی ہیں، یہ سب ہمارے محسن ہیں اور ہم ان کی قربانیوں کے مقروض ہیں۔ حکومت اور ریاست شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
کور کمانڈر پشاور نے کہا کہ جن جوانوں نے اپنی جانیں ملک پر قربان کیں، ان کی قربانی اور خون کے ایک ایک قطرے کا مقصد حاصل کیا جائے گا۔ ہم عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی ہے، پورے ملک کا فرض ہے کہ مل کر اس کے خلاف لڑے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملائے۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد عمر بخاری کے مطابق اس سال 150 پولیس جوانوں نے قربانی دی، جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور فرنٹیئر کور کے ہزاروں جوان بھی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاک فوج کے ساڑھے چھ ہزار جوانوں اور افسران نے بھی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ایک سافٹ ٹارگٹ ہے جسے سب سے زیادہ نشانہ بنایا جارہا ہے، مکار دشمن پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے، تاہم کسی ادارے کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ تمام ریاستی اداروں اور عوام کو اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
دریں اثنا یومِ شہداء کے موقع پر محکمہ ایکسائز کے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ایکسائز افسران نے شہداء کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں جبکہ مختلف مقامات پر شہداء کی قبروں پر حاضری دے کر پھول چڑھائے گئے اور فاتحہ خوانی کی گئی۔
محکمہ ایکسائز کے حکام نے کہا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں محکمے کے اہلکاروں کے لیے عزم، حوصلے اور استقامت کا سرچشمہ ہیں اور ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔