یومِ شہدائے پولیس: خیبرپختونخوا میں شہداء کو خراجِ عقیدت، وزیراعلیٰ کا شہداء کے خاندانوں کے لیے اضافی اعزازی رقم کا اعلان

یومِ شہدائے پولیس: خیبرپختونخوا میں شہداء کو خراجِ عقیدت، وزیراعلیٰ کا شہداء کے خاندانوں کے لیے اضافی اعزازی رقم کا اعلان

پشاور: یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر خیبرپختونخوا میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں پولیس کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی، آئی جی پولیس ذوالفقار حمید اور سی سی پی او میاں سعید احمد سمیت پولیس و دیگر محکموں کے افسران نے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

یومِ شہدائے پولیس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی بدولت ہم محفوظ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال بہادری اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، حکومت پولیس کے شہداء، غازیوں اور ان کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے شہداء کے ہر خاندان کے لیے 50 ہزار روپے اضافی اعزازی رقم دینے کا اعلان کیا اور شہداء کے ورثاء کو پلاٹوں کی فراہمی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔

محمد سہیل آفریدی کے مطابق گزشتہ مالی سال پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے تقریباً 35 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ تقریباً 85 ارب روپے سے بڑھا کر 180 ارب روپے سے زائد کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، اس لیے حکومت کی اولین ترجیح قیامِ امن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے سیاسی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں عمران خان کی حکومت آنے کے بعد یہ واحد دور تھا جب خیبرپختونخوا نے امن دیکھا۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی 20 سالہ قربانیوں سے امن قائم ہوا، اسے خراب کرنے والی پالیسیوں پر تنقید بھی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں کے فیصلوں پر تنقید بے جا نہیں، کیونکہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ خیبرپختونخوا متاثر ہوا اور لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں۔ ریاستی فیصلوں کے نتیجے میں دوبارہ دہشت گردی مسلط ہونے پر صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 22 سالہ ناکام پالیسی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ حکمت اور مصلحت کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ اگر عمران خان کی امن پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن کے اندر خیبرپختونخوا میں امن قائم کرکے دکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انا اور بغض کی وجہ سے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیں گے تو نقصان سب کو ہوگا۔ حکومت خیبرپختونخوا اپنی پولیس کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھا گیا ہے۔

آئی جی پولیس کا شہداء کو خراجِ عقیدت

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ یومِ شہداء منانے کا مقصد پولیس کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی نوکری کہنے کو ملازمت ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑا چیلنج ہے، جس میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔ جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکاروں نے یہ قربانی چند پیسوں کے لیے نہیں بلکہ وطن کے لیے دی۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ شہداء کی قربانی رنگ لائے گی اور صوبے میں جلد امن قائم ہوگا، آئندہ بھی پولیس کے جذبے اور عقیدت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس لائنز پشاور آمد

یومِ شہدائے خیبرپختونخوا پولیس کے موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پولیس لائنز پشاور کا دورہ کیا، جہاں سی سی پی او میاں سعید احمد اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔

گورنر نے یادگارِ شہدائے پولیس پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور شہداء کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شہدائے پولیس کی قربانیاں امن، قانون کی حکمرانی اور وطن کے دفاع کی روشن مثال ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جرأت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم شہدائے پولیس کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے، جبکہ شہداء کے اہلِ خانہ قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کی عزت و فلاح ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ شہدائے پولیس کا لہو امن، استحکام اور عوام کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی اور وطن کے امن و استحکام کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

سی سی پی او کی یادگارِ شہداء پر حاضری

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر سی سی پی او پشاور میاں سعید احمد نے یادگارِ پولیس شہداء پر حاضری دی۔ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی، جبکہ سی سی پی او نے یادگار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

خیبرپختونخوا پولیس کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ ملک سعد شہید پولیس لائن مسجد میں ختمِ قرآن کا اہتمام بھی کیا گیا۔

سی سی پی او میاں سعید احمد نے کہا کہ وطن عزیز پر جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ایکسائز محکمہ کے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت

یومِ شہداء کے موقع پر محکمہ ایکسائز کے شہداء کو بھی بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ایکسائز افسران نے شہداء کے لواحقین سے ملاقاتیں کرکے اظہارِ یکجہتی اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز ماجد خان اور ایس ایچ او تھانہ ایکسائز چارسدہ محمد ریاض نے شہداء کی قبروں پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

ایکسائز افسران نے کہا کہ محکمہ ایکسائز کے پولیس شہداء ادارے کا قابلِ فخر سرمایہ ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان شہداء کی قربانیاں محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں کے لیے عزم، حوصلے اور استقامت کا سرچشمہ ہیں۔

ماجد خان نے شہداء کے لواحقین کو صوبائی وزیر سید فخر جہان، سیکریٹری خالد الیاس اور ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا، جس میں شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن تعاون، فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی۔

دریں اثنا مردان میں ای ٹی او سید نوید جمال اور عملے نے سب انسپکٹر سمیع اللہ کاشف شہید کی قبر پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں