ایوانِ عدل کے باہر احتجاج، پولیس کا صحافی پر مبینہ تشدد، متعدد پی ٹی آئی کارکن اور وکلا گر

لاہور: ایوانِ عدل کے باہر احتجاج، پولیس کا صحافی پر مبینہ تشدد، متعدد پی ٹی آئی کارکن اور وکلا گرفتار

لاہور: لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ایوانِ عدل کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی، جبکہ پولیس نے متعدد پی ٹی آئی کارکنوں اور وکلا کو حراست میں لے لیا۔

احتجاج کی کوریج کے دوران آج ٹی وی کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق متعدد اہلکاروں نے صحافی پر لاٹھی چارج کیا، اس کا موبائل فون چھین لیا اور اسے تشدد کرتے ہوئے قیدیوں کی وین میں منتقل کردیا۔

ذرائع کے مطابق ناطق ریحان ایوانِ عدل کے باہر وکلا اور پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج کی کوریج کر رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔

بعد ازاں ایس پی کی مداخلت پر صحافی ناطق ریحان کو رہا کردیا گیا اور ان کا موبائل فون بھی واپس کردیا گیا۔

دوسری جانب ایوانِ عدل کے باہر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کارکنوں اور وکلا کے خلاف پولیس کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ایم پی اے عمر ورک، ایم این اے مبین عارف جٹ، ایم پی اے اویس ورک، ایم پی اے احمر رشید بھٹی، ایم پی اے تشکل عباس وڑائچ، ایم پی اے حسن بُٹر اور ایڈووکیٹ رائے اسامہ بھی شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس نے پرامن احتجاج کرنے والے کارکنوں اور وکلا پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں گرفتار کیا، جبکہ صحافتی حلقوں نے بھی کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کے ساتھ مبینہ تشدد اور گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی لاہور میں صحافی ناطق ریحان پر پولیس تشدید کی شدید مذمت۔پریا ایسوسی ایشن کا مطالبہ کے تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت کاروائی کی جائے پوری پریس ایسوسی ایشن پولیس تشدد کا شکار صحافی ناحق ریحان کیساتھ کھڑی ہے
لاہور: پولیس کا آج نیوز کے رپورٹر ناطق ریحان پر تشدد، پی ایف یو جے کی شدید مذمت

لاہور میں ایوانِ عدل کے باہر پی ٹی آئی وکلا کے احتجاج کی کوریج کے دوران پولیس نے آج نیوز کے رپورٹر ناطق ریحان کو مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد حراست میں لے لیا۔ ناطق ریحان پر تشدد اور انہیں حراست میں لیے جانے کے خلاف صحافیوں نے شدید احتجاج کیا، جس پر پولیس نے انہیں رہا کر دیا۔

دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے ناطق ریحان پر سرِعام پولیس تشدد اور انہیں حراست میں لیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اعلانیہ و غیر اعلانیہ سنسرشپ اور سیلف سنسرشپ کے باوجود صحافیوں کو ہراساں کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے صحافیوں کے خلاف کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاستی اداروں نے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو ملک بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے نہ پہلے صحافیوں کو خاموش کرایا جا سکا ہے اور نہ آئندہ کرایا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں