5 اگست کے پُرامن احتجاج کی کال پر پنجاب حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، گھر پر پولیس چھاپے کا الزام

لاہور: 5 اگست کے پُرامن احتجاج کی کال کے بعد پنجاب حکومت اور پولیس پر سیاسی کارکنان کو دباؤ میں لانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ احتجاج کی کال دینے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور کارکنان کو گرفتاریوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گھروں پر چھاپے، گرفتاریوں کی دھمکیاں اور ریاستی دباؤ عوام کے آئینی حقِ احتجاج کو نہیں روک سکتے۔ ایسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکمران عوام کی آواز سے خوفزدہ ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ جدوجہد مکمل طور پر پُرامن، آئینی اور جمہوری ہے، نہ تشدد پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت کرتے ہیں۔

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ 5 اگست کے احتجاج میں صبر، نظم و ضبط اور قانون کی مکمل پاسداری کے ساتھ بھرپور شرکت کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گرفتاریاں، چھاپے اور کسی بھی قسم کا دباؤ پُرامن جدوجہد کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ آئین کی بالادستی اور عوام کے جمہوری و آئینی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔اگر یہ فوری خبر/بریکنگ نیوز کارڈ کے لیے ہے تو میں اسے 3–4 مختصر اور زیادہ جارحانہ ہیڈ لائنز میں بھی تبدیل کر سکتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں