پاکستان کے چوری شدہ نوادرات کا معاملہ سینیٹ کمیٹی میں زیرِ بحث، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور ملوث افراد کی تفصیلات طلب
اسلام آباد: مسعود چوہدری سے
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت نے پاکستان کے تاریخی اور تہذیبی نوادرات کی غیر قانونی کھدائی، بیرونِ ملک اسمگلنگ اور واپسی کے معاملے پر متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان سے چوری یا اسمگل کیے جانے والے نوادرات، ان کے ممکنہ اسمگلنگ نیٹ ورکس، ملوث افراد، بیرونِ ملک ضبط ہونے والے آثارِ قدیمہ اور اب تک واپس لائے گئے نوادرات سے متعلق مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔
27 جولائی 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر عبد الواسع، سینیٹر بشریٰ انجم بٹ، سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سرمد علی سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک محمد نواز سوکی اور مسعود چوہدری کی جانب سے کمیٹی کے چیئرمین کو جمع کرائی گئی درخواست پر بھی غور کیا گیا، جس میں پاکستان کے قدیم نوادرات کی غیر قانونی کھدائی، بیرونِ ملک اسمگلنگ، عالمی مارکیٹ میں فروخت اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے سیکریٹری اسد رحمان گیلانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1970 کے یونیسکو کنونشن کے تحت تعاون کے نتیجے میں مختلف ادوار میں پاکستان کے 513 نوادرات واپس لائے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق واپس آنے والے نوادرات میں گندھارا تہذیب کے نایاب آثار، بدھ مت کے مجسمے، قدیم مٹی کے مجسمے، سکے، ریلیف ورک اور دیگر تاریخی اشیا شامل ہیں۔ بعض نوادرات ہزاروں سال پرانے ہیں اور ان کی مالی قدر سے زیادہ ان کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ امریکہ سے واپس آنے والے نوادرات کی مالیت امریکی اداروں کی جانب سے تقریباً 23 ملین ڈالر لگائی گئی، تاہم پاکستانی حکام کے مطابق قومی ورثے کی حقیقی قیمت محض مالی پیمانے پر متعین نہیں کی جا سکتی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نوادرات کی تعداد کے حوالے سے بھی ریکارڈ کی درستگی کا معاملہ سامنے آیا۔ پاکستانی سرکاری ریکارڈ میں 513 نوادرات کا ذکر ہے جبکہ مصنف مسعود چوہدری کے مطابق امریکی حکام کے ایک بیان میں تعداد 514 بتائی گئی تھی۔ کمیٹی کی سطح پر ریکارڈ کی مکمل تصدیق کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
قومی ورثے کے حوالے سے اس معمولی نظر آنے والے عددی فرق نے بھی اس بنیادی سوال کو جنم دیا کہ پاکستان کے پاس اپنے تاریخی نوادرات کا مکمل، مرکزی اور تصدیق شدہ ڈیجیٹل ریکارڈ کس حد تک موجود ہے۔
وزارت کے پاس ایک لاکھ نوادرات، نمائش محدود
اجلاس کے دوران وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت کے حکام نے بتایا کہ وزارت کے پاس تقریباً ایک لاکھ نوادرات موجود ہیں، تاہم ان میں سے صرف محدود تعداد عوامی نمائش کے لیے پیش کی جا سکی ہے۔
حکام کے مطابق بڑی تعداد میں موجود نوادرات کے لیے مناسب جگہ اور جدید سہولیات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے نئے میوزیم اور مستقل نمائش گاہ کے قیام کی منصوبہ بندی بھی زیرِ غور ہے۔
کمیٹی ارکان نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر ملک کے پاس موجود نوادرات کی مکمل تفصیل، مقام، تاریخی حیثیت اور موجودہ تحویل کا جامع ڈیجیٹل ریکارڈ موجود نہیں تو مستقبل میں ان کے تحفظ، نگرانی اور چوری کی صورت میں شناخت مشکل ہوسکتی ہے۔
مہرگڑھ اور قدیم تہذیبوں کے آثار بھی اسمگلنگ کا شکار
اجلاس میں بلوچستان کے علاقے مہرگڑھ اور دیگر قدیم تہذیبی مقامات سے ملنے والے آثار کا بھی ذکر ہوا۔
مہرگڑھ کو جنوبی ایشیا کی قدیم ترین انسانی بستیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہاں سے ملنے والے آثار پاکستان کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی تاریخ کے اہم شواہد ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ملک کے متعدد آثارِ قدیمہ کے مقامات طویل عرصے سے غیر قانونی کھدائی اور لوٹ مار کے خطرے سے دوچار رہے ہیں۔
غیر قانونی کھدائی کے نتیجے میں تاریخی مقامات سے نوادرات نکال کر انہیں پہلے مقامی سطح پر منتقل کیا جاتا ہے اور بعد ازاں مختلف ذرائع سے بیرونِ ملک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سبھاش کپور نیٹ ورک کا معاملہ
اجلاس میں امریکہ سے واپس آنے والے ان نوادرات کا بھی حوالہ دیا گیا جو بھارتی نژاد امریکی نوادرات کے تاجر سبھاش کپور کے نیٹ ورک سے منسلک رہے ہیں۔
نومبر 2022 میں امریکی حکام نے پاکستان کو 192 نوادرات واپس کیے تھے جن میں سے بڑی تعداد سبھاش کپور کے نیٹ ورک سے منسلک بتائی گئی تھی۔ ان نوادرات میں مہرگڑھ سے تعلق رکھنے والی قدیم اشیا اور گندھارا تہذیب کے آثار بھی شامل تھے۔
امریکی تحقیقات میں بین الاقوامی سطح پر سرگرم نوادرات کے اسمگلنگ نیٹ ورک کے حوالے سے مختلف افراد اور کاروباری رابطوں کا بھی ذکر سامنے آیا۔
کمیٹی کے سامنے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر امریکی اداروں نے تحقیقات کے ذریعے پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد اور بین الاقوامی روابط کی نشاندہی کی ہے تو پاکستان میں متعلقہ اداروں کی جانب سے ان معاملات کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں اور کیا کسی مقامی سہولت کار کے خلاف کارروائی کی گئی؟
پاکستان سے باہر جانے والے نوادرات کی نگرانی پر سوالات
اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ پاکستان کے مختلف تاریخی مقامات سے قیمتی نوادرات غیر قانونی طور پر نکالے جانے کی اطلاعات کے باوجود اس پورے عمل کی روک تھام کے لیے ایک مربوط نظام موجود نہیں۔
مقامی سطح پر غیر قانونی کھدائی کرنے والے افراد سے لے کر بین الاقوامی ڈیلروں تک ایک مکمل زنجیر کے ذریعے نوادرات عالمی مارکیٹ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس نیٹ ورک کو روکنے کے لیے صرف آثارِ قدیمہ کے محکموں کی کارروائی کافی نہیں بلکہ وفاقی تحقیقاتی اداروں، کسٹمز، پولیس، بارڈر فورسز، انٹیلی جنس اداروں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط نظام ضروری ہے۔
فرانس سے بھی سیکڑوں نوادرات واپس آ چکے
پاکستان کے نوادرات کی بیرونِ ملک سے واپسی کا سلسلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں۔
جولائی 2019 میں فرانس نے بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں قدیم نوادرات واپس کیے تھے۔ ان میں بلوچستان کی قدیم تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے برتن، مجسمے اور دیگر آثار شامل تھے۔
یہ نوادرات فرانسیسی کسٹمز حکام نے پیرس کے شارل دیگال ایئرپورٹ پر ضبط کیے تھے جب انہیں پارسل کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیا جا رہا تھا۔
اس واقعے نے بھی یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر پاکستانی نوادرات فرانس پہنچنے کے بعد فرانسیسی حکام کے ہاتھ لگ سکتے ہیں تو انہیں پاکستان سے باہر لے جانے والے عناصر کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو سکی۔
اٹلی میں بھی پاکستانی نوادرات کی موجودگی کا معاملہ
اجلاس کے دوران اٹلی میں بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والے چوری شدہ یا اسمگل شدہ نوادرات کی موجودگی اور ان کی ممکنہ واپسی کا معاملہ سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق مختلف ممالک سے پاکستان کو واپس کیے جانے والے نوادرات کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں، جس سے ایک مرکزی اور مستند قومی ریکارڈ کی ضرورت مزید واضح ہوتی ہے۔
کمیٹی کا اہم سوال: پاکستان میں کارروائی کہاں ہے؟
کمیٹی ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک سے نوادرات کی واپسی اپنی جگہ اہم پیش رفت ہے، تاہم صرف نوادرات واپس لانا کافی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان سے یہ نوادرات غیر قانونی طور پر نکالنے والے کون تھے، انہیں بیرونِ ملک پہنچانے والے افراد کون تھے، مقامی سطح پر انہیں سہولت کس نے فراہم کی اور ان کے خلاف پاکستان میں کیا قانونی کارروائی ہوئی؟
کمیٹی نے متعلقہ حکام سے کہا کہ صرف نوادرات کی تعداد اور واپسی کی تفصیل نہیں بلکہ پورے اسمگلنگ نیٹ ورک سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں۔
سینیٹ کمیٹی نے جامع رپورٹ طلب کرلی
قائمہ کمیٹی نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت اور متعلقہ اداروں سے آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اسمگلنگ نیٹ ورکس، ملوث افراد، چوری شدہ نوادرات، بیرونِ ملک موجود پاکستانی آثار، واپس لائے گئے نوادرات، ان کی موجودہ تحویل اور ان معاملات میں کی جانے والی قانونی کارروائی کی تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔
کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ قومی ورثے کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔
ڈیجیٹل رجسٹری اور سخت نگرانی کی ضرورت
ماہرین کے مطابق پاکستان میں موجود اہم نوادرات کی ایک مرکزی ڈیجیٹل رجسٹری قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس رجسٹری میں ہر نوادرات کی تصویر، تاریخی تفصیل، دریافت کا مقام، موجودہ تحویل، میوزیم یا سرکاری ادارے کا نام اور اس کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔
اسی طرح آثارِ قدیمہ کے اہم مقامات کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، کیمروں، ڈرونز اور دیگر ذرائع کا استعمال، غیر قانونی کھدائی کے خلاف فوری کارروائی اور سرحدی گزرگاہوں پر نوادرات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے خصوصی نظام بھی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی ورثہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے
پاکستان کی زمین میں موجود مہرگڑھ، گندھارا، وادیٔ سندھ اور دیگر تہذیبوں کے آثار محض پتھر، مٹی کے برتن یا مجسمے نہیں بلکہ اس خطے کی ہزاروں سالہ تاریخ کے زندہ شواہد ہیں۔
ایک قدیم نوادرات کی چوری کا مطلب صرف ایک قیمتی چیز کا غائب ہونا نہیں بلکہ ایک تاریخی مقام سے اس کے سیاق و سباق اور علمی معلومات کا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا بھی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی حالیہ کارروائی نے اس مسئلے کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کر دیا ہے۔ اب اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ متعلقہ وزارت اور ادارے آئندہ اجلاس میں کس حد تک مکمل اور قابلِ تصدیق معلومات فراہم کرتے ہیں اور کیا اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف عملی کارروائی کا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے آتا ہے۔
قومی ورثہ کسی سرکاری فائل یا گودام کی ملکیت نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہے۔ اگر پاکستان نے اپنے تاریخی مقامات، نوادرات اور تہذیبی شواہد کو محفوظ نہ کیا تو آنے والی نسلیں اپنی تاریخ کے اصل آثار صرف بیرونِ ملک عجائب گھروں، نجی مجموعوں اور عالمی گیلریوں میں دیکھنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
سینیٹ کمیٹی نے سوال اٹھا دیا ہے، اب جواب متعلقہ اداروں کو دینا ہے کہ پاکستان کی ہزاروں سالہ تہذیبی میراث کی حفاظت کون کرے گا، چوری شدہ نوادرات واپس کون لائے گا اور ان کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر تک قانون کا ہاتھ کب پہنچے گا؟
