پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی مبینہ خودکشی کی کوشش، سپورٹس ڈیپارٹمنٹ پر سنگین الزامات

پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی مبینہ خودکشی کی کوشش، سپورٹس ڈیپارٹمنٹ پر سنگین الزامات

لاہور: پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ اور نمایاں ایتھلیٹ سونیا فاروق کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے معاملے نے یونیورسٹی انتظامیہ اور سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سونیا فاروق کے مطابق وہ متعدد میڈلز حاصل کر چکی ہیں، تاہم ان کا الزام ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انہیں جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

ایک اور طالبہ ثمرا بشیر نے الزام عائد کیا ہے کہ ہاسٹل میں طالبات کے سوتے ہوئے مبینہ طور پر ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور بعد ازاں انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ثمرا بشیر کے مطابق انہوں نے مبینہ ناانصافی اور ظلم کے خلاف تین مرتبہ درخواستیں جمع کروائیں، تاہم کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ہاسٹل سے نکال دیا۔

دوسری جانب دستیاب سرکاری ریکارڈ سے یہ ضرور تصدیق ہوتی ہے کہ سونیا فاروق پنجاب یونیورسٹی کی جودو ٹیم کی کھلاڑی ہیں اور 2025 کی آل پاکستان HEC انٹر یونیورسٹی ویمن جودو چیمپئن شپ میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

تاہم جنسی ہراسانی، ویڈیوز بنانے، بلیک میلنگ اور ہاسٹل سے طالبات کو نکالنے سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اس وقت دستیاب نہیں، اس لیے ان الزامات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔

متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں