اٹک کے صحافی ملک ارشد جعفری کے قتل سمیت سنگین مقدمات میں مطلوب مبینہ اشتہاری ملک ضرغام اللہ والد سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک

اٹک کے صحافی ملک ارشد جعفری کے قتل سمیت سنگین مقدمات میں مطلوب مبینہ اشتہاری ملک ضرغام اللہ والد سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک

ہری پور پولیس، سی سی ڈی اٹک اور ایلیٹ فورس کا مشترکہ آپریشن، مغوی خاتون پانچ کروڑ روپے تاوان کے مطالبے کے باوجود بحفاظت بازیاب

اٹک (ڈاکٹر محمد سعید خٹک سے) — اٹک کے معروف صحافی ملک ارشد جعفری کے قتل سمیت اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ، جنسی زیادتی اور بھتہ خوری کے سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب مبینہ اشتہاری اور سابق ایس ایس جی کمانڈو ملک ضرغام اللہ اور اس کا والد ملک خالد محمود خان ہری پور پولیس، سی سی ڈی اٹک اور ایلیٹ فورس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اٹک ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کو مطلوب ملک ضرغام اللہ کے خلاف متعدد سنگین مقدمات درج تھے اور وہ اٹک میں مبینہ طور پر خوف و دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اس موقع پر ایس ایچ او سی سی ڈی اٹک انسپکٹر سید عمران حیدر کاظمی، انچارج آئی ٹی راجہ محمد یوسف اور ریڈر محمد عثمان خان بھی موجود تھے۔

ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی کے مطابق ملک ضرغام اللہ نے مبینہ طور پر 28 دسمبر 2022 کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اٹک کے معروف صحافی ملک ارشد جعفری اور ان کے دو ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ صدر اٹک میں انسداد دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق ہلاک ملزم 14 جولائی کو تھانہ سٹی اٹک کی حدود سے ایک خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرنے اور اس کے اہل خانہ سے پانچ کروڑ روپے تاوان طلب کرنے کے مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ تھانہ سٹی اٹک میں دفعہ 365-A تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا تھا۔

دو گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ

ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی کے مطابق اطلاع ملنے پر سی سی ڈی اٹک نے ہری پور پولیس اور ایلیٹ فورس کے ہمراہ ہری پور کے تھانہ کھلابٹ کی حدود ڈھینڈہ بائی پاس، چونگی نمبر 3 کے قریب مشترکہ آپریشن کیا۔

ان کے مطابق آپریشن کی سربراہی ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی اور ایس ایچ او سی سی ڈی اٹک سید عمران حیدر کاظمی نے کی۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مطلوب ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر دو گھنٹے سے زائد فائرنگ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر اپنے خاندان کے افراد کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، تاہم اہلکاروں نے انہیں بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ رکنے کے بعد سرچ آپریشن کیا گیا تو ملک ضرغام اللہ اور اس کا والد ملک خالد محمود خان ہلاک پائے گئے، جبکہ بعض نامعلوم ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

مغوی خاتون بھی بحفاظت بازیاب

سی سی ڈی حکام کے مطابق کارروائی کے بعد ملزم کے دوسرے ٹھکانے پر بھی ریڈ کیا گیا جہاں سے پانچ کروڑ روپے تاوان کے لیے اغوا کی گئی خاتون کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں رکھا گیا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔

ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ٹراما سنٹر ہری پور منتقل کردی گئیں جبکہ علاقے میں دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھنے کا بتایا گیا ہے۔

ملزم کے خلاف متعدد مقدمات، مزید کارروائی کا اعلان

ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی نے بتایا کہ سی سی ڈی کو تقریباً چار روز قبل ملک ضرغام اللہ کے بارے میں اہم اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر سی سی ڈی پنجاب کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر کارروائی کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔

پولیس کے مطابق کارروائی میں ہری پور پولیس کے ایس ایچ او رضوان، ایس ایچ او نعمان اور دیگر اہلکاروں نے بھی معاونت کی۔

ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری سمیت مختلف سنگین جرائم کے مقدمات میں پولیس کارروائی کررہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملزم معاشرے اور اٹک کے عوام کے لیے ناسور تھا اور سی سی ڈی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کے باعث اسے انجام تک پہنچایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی معاونت کرنے والے بعض افراد کے بارے میں بھی اہم شواہد حاصل ہوچکے ہیں اور ان کے خلاف جلد کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق بکتر بند گاڑی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا

پولیس حکام کے مطابق ملزم ایک کمرے سے مسلسل فائرنگ کررہا تھا جبکہ عمارت میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے، اس لیے مغوی خاتون اور دیگر افراد کی جان بچانے کے لیے انتہائی احتیاط سے کارروائی کی گئی۔

حکام کے مطابق ملزم کو متعدد بار سرنڈر کرنے کا موقع دیا گیا، تاہم مبینہ طور پر اس کی جانب سے فائرنگ جاری رہی۔ بعد ازاں بکتر بند گاڑی کے ذریعے شیلنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد ملزم باہر نکلا اور فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا۔

سی سی ڈی ٹیم کے لیے نقد انعامات کا اعلان

کامیاب کارروائی پر سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اور ریجنل آفیسر سی سی ڈی راولپنڈی حسن جہانگیر وٹو نے سی سی ڈی اٹک ٹیم کو شاباش دی اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جرات کو سراہا۔

پولیس حکام کے مطابق سی سی ڈی ٹیم کے لیے 10 لاکھ روپے جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔

ڈی پی او اٹک سردار موہران خان کی جانب سے بھی کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو تعریفی خطوط اور اسناد دی گئیں۔

ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کو اپنا آئیڈیل بنانے کے بجائے تعلیم، روزگار اور کاروبار پر توجہ دیں اور اپنی زندگی قانون اور شرافت کے مطابق گزاریں۔

صحافی برادری کا سی سی ڈی ٹیم کو خراج تحسین

اس موقع پر شہید سینئر صحافی ملک ارشد جعفری کے صاحبزادے ملک محسن رضا، مقامی صحافی ملک فراست اعوان اور دیگر نے ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اٹک ڈی ایس پی یاسر مطلوب کیانی، ایس ایچ او سید عمران حیدر کاظمی، راجہ محمد یوسف اور ریڈر محمد عثمان خان کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ہار پہنائے۔

صحافیوں نے سی سی ڈی اٹک کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سنگین جرائم میں مطلوب ملزم کے خلاف کامیاب کارروائی اٹک میں امن و امان کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔

پولیس حکام نے کہا کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور خواتین کو اغوا کرکے تاوان طلب کرنے جیسے جرائم کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں