درندگی کی انتہا اسلام آباد پریس کلب کے باہر کئی دنوں سے بیٹھی اپنے دو ماہ کے بچے کے ساتھ لڑکی کی کہانی
اسلام آباد میں آج سے 1 سال پہلے مظفرگڑھ کی 15 سالہ لڑکی جو سواں گارڈن میں کسی کے گھر میں کام کر رہی ہوتی ہے اسے 3 لڑکے جنسی ذیادتی کا نشانہ بناتے ہیں
لڑکی پریگننٹ ہو جاتی ہے شور ہوتا ہے لڑکے دبئی بھاگ جاتے ہیں متاثرہ لڑکی کے 13 سالہ بھائی کو اٹھوا لیا جاتا ہے
2 ماہ کی پریگننٹ اسلام آباد پریس کلب کے باہر دھرنا دیتی ہے پولیس پرچہ کاٹنے کے بجائے الٹا متاثرہ لڑکی کو ہراساں کرتی ہے کہ تم جیسوں کیساتھ یہی ہوتا ہے کیا ضرورت تھی کسی کے گھر کام کرنے کی متاثرہ لڑکی کی ماں اپنے 10 سالہ بیٹے کو 80 ہزار کے حوض گروی رکھوا کر بیٹی کی ڈلیوری کرواتی ہے
آج وہ بچہ جسے معاشرہ ناجائز کہتا ہے وہ اڑھائی ماہ کا ہو چکا ہے جس کا نام سبحان رکھا گیا ہے اور وہ آج بھی نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے ہیں
صورتحال یہ ہے کہ سبحان پانی پی کر ذندہ ہے ( ڈاکٹرز کے مطابق 6 ماہ تک پانی نہیں دیا جاتا ) کیونکہ ان کے پاس دُودھ خریدنے تک کے پیسے نہیں
سوچ رہا ہوں اس بے حس معاشرے میں سبحان کیلئے دودھ مانگا جائے یا انصاف !!!
آج جب بچے کیلئے لیکٹوجن 1 فارمولا ملک خرید کر لایا تو لڑکی کی ماں نے کہا بیٹا صبح سے کھانا بھی نہیں کھایا
وہ نیشنل پریس کلب کی دیوار کیساتھ بیٹھے ہیں اگر پریس کلب والے انکے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے تو روٹی تو دے ہی سکتے ہیں؟
باقی اس شہر میں چیف جسٹس بھی ہیں وزیر اعظم بھی آئی جی پولیس بھی ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہ لوگ غریب ہیں
اس خبر کو آپ لوگ نے دبا کے شیئر کرنا ہے
تحریر صحافی فیصل تارڑ