اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی درخواست پر صحافی سید عمران شفقت کو این سی سی آئی اے کا نوٹس جاری
اسلام آباد/ملتان: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی درخواست پر صحافی اور وی لاگر سید عمران شفقت کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کا معاملہ سامنے آ گیا۔
سید عمران شفقت نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دی، جس کے بعد این سی سی آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر ملتان نے انہیں طلبی کا نوٹس جاری کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی وی لاگ میں کوئی غیر قانونی یا مجرمانہ مواد شامل نہیں تھا اور عوام خود وی لاگ دیکھ کر فیصلہ کر سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے نوٹس کے مطابق این سی سی آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر ملتان نے دفعہ 160 ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت انکوائری نمبر ENQ-CCRC-MTN-1549/26 میں سید عمران شفقت کو 27 جولائی 2026 کو طلب کیا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی اداروں اور اہم شخصیات کے خلاف مبینہ طور پر “جھوٹا، من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد مواد” پھیلانے کا الزام ہے، جس کے حوالے سے ان کا مؤقف ریکارڈ کیا جانا مقصود ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی درخواست کی کاپی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو قانونی کارروائی کی درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سید عمران شفقت نے 15 جولائی 2026 کو اپنے وی لاگ میں وفاقی کابینہ کے دو غیر سیاسی ارکان، وزیر اطلاعات اور وزارت کی ٹیم کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ درخواست میں کہا گیا کہ مذکورہ وی لاگ کے ذریعے حکومت اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، جبکہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ درخواست کے ساتھ متنازع وی لاگ کے یوٹیوب لنکس بھی منسلک کیے گئے۔
دوسری جانب سید عمران شفقت نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ وی لاگ میں اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کے بارے میں ہونے والی باتوں کا ذکر کیا گیا تھا اور ان کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خود مدعی بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام خود وی لاگ کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں کہ آیا اس میں کوئی جرم کیا گیا یا نہیں۔
تاحال این سی سی آئی اے یا وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے اس معاملے پر نوٹس اور درخواست کے علاوہ کوئی مزید باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ انکوائری کا عمل قانون کے مطابق جاری ہے۔ اس مرحلے پر الزامات ثابت نہیں ہوئے اور معاملہ تحقیقات کے مراحل میں ہے۔