بھارتی فنڈنگ سے پاکستان مخالف ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب، ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز اور بوٹ فارمز کے ذریعے گمراہ کن مہم چلائی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی خصوصی گفتگو
اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان، ریاستی اداروں، مسلح افواج اور قومی قیادت کے خلاف بھارتی فنڈنگ سے چلنے والا منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز اور بوٹ فارمز کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلا رہا تھا۔ گرفتار شخص سے حاصل معلومات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور تکنیکی شواہد سے اس نیٹ ورک کے بیرونی روابط سامنے آئے ہیں جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق مواد کو بھی منظم انداز میں فروغ دیا گیا۔ اتوار کو یہاں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے کچھ عرصہ قبل ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز فراہم کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا ، تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شخص سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز فراہم کر رہا تھا جس کے تانے بانے انڈیا سے ملتے ہیں، اس شخص کے ذریعے مواد کو پاکستان میں وائرل کرنے کے لیے انڈیا سے ادائیگیاں کی جا رہی تھیں۔ گرفتار شخص سے معلومات تک رسائی حاصل کی گئی تو پتہ چلا کہ مس انفارمیشن کا پورا نیٹ ورک بوٹ فارمز کے ذریعے آپریٹ ہو رہا تھا جس کے ذریعے پاکستان، پاکستان کی سا لمیت، حکومت، فوج اور اداروں کے خلاف مواد وائرل کیا جا رہا تھا۔ اس شخص نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اسے زیادہ مواد آزاد کشمیر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حوالے سے مل رہا تھا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم شروع سے ہی کہہ رہے تھے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا اور پاکستان و کشمیری عوام کے درمیان تعلق کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام سرگرمیاں ایک منظم سازش کا حصہ ہیں اور ان کا نہ تو کشمیر کاز سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کشمیری عوام کے مفادات سے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ عناصر واقعی کشمیر اور کشمیر کاز سے مخلص ہیں تو یہ پھر یہ انتخابی عمل کا حصہ کیوں نہیں بنتے؟ انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ اور عوام کے حقوق کے لئے جمہوری و آئینی طریقے سے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ انہوں نے کہا کہ ان کی سرگرمیوں میں چاہے مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ ہو یا پرتشدد احتجاج، انہوں نے ہر موقع پر تشدد کی سیاست کو فروغ دیا۔ انہوں نے اپنے احتجاجوں کے دوران کشمیری پولیس کے جوانوں کو شہید کیا، آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پیدا کی، جتھا بندی کی اور سڑکیں بند کر کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ شروع سے ہی ایک سازش کا حصہ رہے جس کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، اس کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں اس گروہ نے اسلحہ اور ڈنڈوں سے لیس ہو کر تحریک شروع کرنے کی کوشش کی، وہ نہ کشمیری عوام کے مفاد میں تھی اور نہ ہی اس کا کشمیر کاز سے کوئی تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان سازشی عناصر کا مقصد آزاد جموں و کشمیر میں ایسی صورتحال پیدا کرنا تھا جس سے کشمیری عوام کو نقصان پہنچے اور پاکستان و کشمیر کے درمیان مضبوط رشتے کو متاثر کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آج سیاسی جماعتیں کشمیر میں بڑے بڑے عوامی اجتماعات اور جلسے کر رہی ہیں جن میں عوام کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے، ان جلسوں اور اجتماعات میں کشمیری عوام نے شرکت کر کے سازشی عناصر کی سازشی سیاست کو مسترد اور تشدد پر مبنی طرز عمل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں عوام کی ان اجتماعات اور جلسوں میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے جسے نہ کمزور کیا جا سکتا ہے اور نہ توڑا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم پہلے بھی کہتے تھے کہ ان سازشی عناصر کو بھارت کی فنڈنگ حاصل ہے، اب اس حوالے سے شواہد بھی سامنے آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کے پیچھے بھارت کے مقاصد واضح ہیں، بھارت چاہتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو اور بدامنی پیدا کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے مواد کا تکنیکی ڈیٹا کے ذریعے تجزیہ کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس مہم کے پیچھے منظم سرگرمیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازشی عناصر آج پوری قوم کو جواب دہ ہیں، یہ دشمن سے فنڈنگ لے کر پاکستان، پاک فوج اور قومی قیادت کے خلاف نفرت پر مبنی مس انفارمیشن کمپین چلا رہے تھے، ان کا گٹھ جوڑ سامنے آیا، بھارت سے ہونے والی فنڈنگ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اب کس حیثیت سے کشمیری عوام کے حقوق کی بات کرے گی جبکہ اس کے تمام تانے بھارت سے ملتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایک ویڈیو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے متعلق تمام شواہد حاصل کرلئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والا شخص ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا پر مواد پھیلانے کا ماہر ہے، یہ شخص کسی بھی مواد کو وائرل کرنے کے لئے مارکیٹنگ سروسز فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف مہم چلائی جاتی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سفارتی محاذ اور معرکہ حق میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت دی، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس انداز سے کامیابیاں حاصل کیں، دنیا اس کا اعتراف کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے سفارتی میدان اور دیگر محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے لیکن یہ کامیابیاں ہمارے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں اسی لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی جیسے معاملات کو ہوا دی گئی، بیرونی فنڈنگ سے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ مملکتِ خداداد ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوگی اور ترقی و خوشحالی اس کا مقدر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر ملنے والی کامیابیوں پر پوری قوم نے جشن منایا جبکہ معرکۂ حق کے موقع پر پوری قوم متحد رہی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرپرستی میں چلنے والا نفرت انگیز پروپیگنڈا کامیاب نہیں ہو سکتا، حکومت، مسلح افواج اور سکیورٹی ادارے ایسی مہمات کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔ وفاقی وزیر نے زیر حراست شخص اور بھارتی آپریٹر کے درمیان واٹس ایپ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس گفتگو میں ویوز کی تعداد، ادائیگیوں اور اکاؤنٹ تفصیلات کے حوالے سے بات چیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مالی لین دین کو چھوٹی چھوٹی رقوم میں تقسیم کر کے منتقل کیا گیا تاکہ پاکستان کے مالیاتی نگرانی کے نظام سے بچا جا سکے، بڑی رقم ایک ہی بار منتقل نہیں کی گئی بلکہ مختلف مراحل میں ادائیگیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق مواد، پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مواد اور دیگر پاکستان مخالف پوسٹوں کو پروموٹ کیا گیا، ان پوسٹوں کے پیچھے ٹرول فارمز اور اکاؤنٹس بھارت کی فنڈنگ پر آپریٹ ہو رہے ہیں اور اس طرح کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز لی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز کے حصول کے معاملے کی بھی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے گیٹ ویز پر بھی حکومت اور متعلقہ اداروں کی مکمل نظر ہے جن کے ذریعے فنڈنگ کے ذرائع کا سراغ لگا کر انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مہم میں صرف ریاست مخالف پروپیگنڈا ہی نہیں کیا گیا بلکہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں مسلح افواج کے خلاف متعدد ایسی پوسٹوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جنہیں منظم انداز میں پھیلایا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی سازش کا مقصد فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینا اور پاکستان میں عوام اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط تعلق کو مس انفارمیشن کے ذریعے متاثر کرنا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پروپیگنڈے کے لئے استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پیچھے منظم بوٹ نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں جو اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز کے ذریعے بھارت سے منسلک تھے۔ انہوں نے کہا کہ وی پی این کے استعمال سے اصل مقام کو چھپانے کی کوشش کی گئی تاہم جس ڈیوائس پر وی پی این انسٹال کیا گیا اور جس کے ذریعے پوسٹیں کی گئیں، وہ انڈیا بیسڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نشاندہی ہو جاتی ہے کہ فلاں ڈیوائس نے وی پی این لگایا تھا اور اس ڈیوائس کے ذریعے یہ معاملات انجام دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے متعدد اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اس معاملے پر ہماری کڑی نظر ہے تکنیکی طریقے سے ایسی مہمات کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید ایسی پوسٹیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان، مسلح افواج اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلایا گیا اور لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔ یہ تمام مواد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے متعلق ہے، اس لئے یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس کمیٹی کے بیرونی روابط اور فنڈنگ سے متعلق خدشات درست تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بے شمار پوسٹیں موجود ہیں جن کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلانے کا منظم نظام چلایا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گرفتار شخص سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید اہم مواد بھی حاصل کیا جا چکا ہے جسے مناسب وقت پر قوم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر، دیگر ممالک اور علاقوں کی پرانی ویڈیوز کو کشمیر سے منسوب کر کے پیش کرنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مس انفارمیشن کا مقابلہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری آئندہ بھی موثر انداز میں ادا کی جاتی رہے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا پاکستان کو ایک پرامن ملک اور امن کے علمبردار کے طور پر دیکھ رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سطح پر عزت و وقار حاصل ہوا ہے، اس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور پاکستان مزید ترقی کی جانب گامزن رہے گا