اسلام آباد میں کمسن لڑکی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج، خبر ملتے ہی ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین کی فوری کارروائی، متاثرہ ماں اور شیر خوار بچے کو تحفظ مل گیا
اسلام آباد: اسلام آباد پریس کلب کے باہر کئی ماہ سے انصاف کی منتظر مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والی کمسن متاثرہ لڑکی اور اس کے ڈھائی ماہ کے شیر خوار بچے کی داد رسی کے لیے اسلام آباد پولیس نے اہم اقدامات کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا، متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ بیرون ملک فرار ہونے والے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق تقریباً ایک سال قبل 15 سالہ لڑکی، جو اسلام آباد کے علاقے سواں گارڈن میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی، مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنی۔ واقعے کے بعد وہ حاملہ ہوگئی جبکہ خاندان کا الزام ہے کہ ملزمان دبئی فرار ہو گئے اور انصاف کے حصول کے دوران انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
خاندان کئی روز تک اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کرتا رہا، جہاں متاثرہ لڑکی اپنے ڈھائی ماہ کے بچے کے ساتھ کھلے آسمان تلے بیٹھی رہی۔ غربت اس حد تک تھی کہ بچے کے دودھ اور روزمرہ خوراک کا انتظام بھی ممکن نہیں رہا۔
معاملہ سامنے آنے پر ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہدایت دی۔ ان کی نگرانی میں تھانہ لوہی بھیر میں مقدمہ درج کیا گیا، متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کی گئی جبکہ بیرون ملک فرار مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے گئے۔
ڈاکٹر ایاز حسین نے صرف قانونی کارروائی تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے متاثرہ ماں اور اس کے شیر خوار بچے کے لیے محفوظ رہائش، خوراک اور طبی سہولیات کا بھی فوری انتظام کرایا۔ پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تحفظ اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ مزید مشکلات کا شکار نہ ہو۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی تک قانونی کارروائی بلاامتیاز جاری رہے گی…